صفر المظفر ؍۱۳

حکمیت کا معاملہ طے ہوا ۔ ۳۷ھ

میدان صفین میں شکست سے بچنے کی خاطر حاکم شام نے قرآن کریم کو نیزہ پر بلند کرایا۔ جس سے امیرالمومنین علیہ السلام کے لشکرمیں موجود منافقین اور ضعیف العقیدہ سپاہی دھوکہ کھا گیا ۔ نتیجہ میں دونوں لشکر کی جانب سے حکمیت طے ہوئی کہ ابوموسیٰ اشعری امیرالمومنین علیہ السلام کا نمایندہ منتخب ہوا اگرچہ مولا اس انتخاب سے راضی نہیں تھے اور عمروعاص حاکم شام کا نمایندہ مقرر ہوا۔ عمروعاص نے ابوموسیٰ اشعری کو دھوکہ دے کر کامیابی حاصل کر لی۔ لیکن افسوس جن لوگوں نے آپ کو حکمیت اور ابوموسیٰ اشعری کے کو بطور حکم قبول کرنے پر مجبور کیا تھا وہی لوگ شکست کھانے کے بعد آپ کے مخالف ہو گئے۔ جس کے نتیجہ میں جنگ نہروان ہوئی ۔

وفات امام نسائی ۳۰۳ھ

اہلسنت کے معروف عالم، محدث اور مولف جناب احمد بن علی العروف بہ امام نسائی جنکی کتاب ’’السنن‘‘ صحاح ستہ میں شامل ہے۔ امام نسائی جب مصر سے شام پہنچے تو وہاں لوگوں کو دیکھا کہ وہ حضرت امیرالمومنین علیہ السلام پر سب و شتم کر رہے ہیں تو شام والوں کی ہدایت کے لئے ایک کتاب’’خصائص امیرالمومنینؑ‘‘ لکھی ۔ اہل شام نے حاکم شام کی فضیلت میں ان سے روایت پوچھی تو انھوں نے کہا کہ مجھ تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی صرف یہ روایت پہنچی کہ ’’خدا اس کے شکم کو سیر نہ کرے‘‘ یہ سننا تھا کہ شام والوں نے امام نسائی کو اتنا مارا کہ وہ موت سے نزدیک ہو گئے ۔ انھوں نے کہا کہ مجھے مکہ مکرمہ لے چلو۔ راستے میں یا مکہ پہنچ کر ان کا انتقال ہو گیا۔