عبد الرحمٰن بن ملجم مرادی ملعون کوفہ آیا  ۴۰ ھ

جنگ نہروان کے شکست خوردہ خارجی کوفہ سے بھاگ کر عالم اسلام کے مختلف علاقہ جات میں پناہ گزیں ہوئے ۔ انہیں میں کچھ مکہ مکرمہ چلے گئے، یہ لوگ آپس میں امیرالمومنین علیہ السلام کی حکومت کے خلاف سازشیں کرتے یہاں تک مکہ مکرمہ میں تین خارجیوں نے جنمیں عبدالرحمٰن بن ملجم بھی شامل تھا آپس میں طے کیا کہ ان میں سے ہر ایک امیرالمومنین علیہ السلام کو کوفہ میں ، حاکم شام کو شام میں اور اس کے وزیر عمروعاص کو مصر میں ایک ہی تاریخ اور ایک ہی وقت میں قتل کر دیں گے۔ ان تین لوگوں نےپہلے مکہ مکرمہ میں خانہ کعبہ کے سامنے عہد کیاپھر یہ لوگ مدینہ آئے اور قبر رسولؐ پر اپنے عہد کی تجدید کی۔

عبدالرحمٰن بن ملجم امیرالمومنین علیہ السلام کو قتل کرنے کے لئے کوفہ کی جانب روانہ ہوا ۔ باقی دونوں میں سے ایک شام اور دوسرا مصر کی جانب چلا گیا۔ عبدالرحمن بن ملجم مرادی ۲۰ ؍ شعبان المعظم   ۴۰  ھ کو کوفہ میں پہنچا اور اشعث بن قیس کا مہمان ہوا، اور اشعث کے ذریعہ ہی قطام تک پہنچااور جب وہ قطام کی حوس میں گرفتار ہوا تو قطام نے اپنا مہر امیرالمومنین علیہ السلام کا سر رکھا جس سے اس کے اس کے ارادہ کو مزید تقویت ملی اور ۱۹ ؍ رمضان المبارک کو نماز صبح میں اس نے وہ جرم کیا جس سے مسجد کوفہ کے در و دیوار ہل گئے ، ملائکہ آسمان نے گریہ کیا اور زمین و زمان سوگوار ہو گئے۔

وفات عالم و عارف شيخ ملامحمد كکاشانی (آخوند كکاشی) رحمۃ اللہ علیہ   ۱۳۱۳ ھ

عالم و عارف شيخ ملامحمد كکاشانی (آخوند كکاشی) رحمۃ اللہ علیہ ۱۲۴۹ ؁ھ کو پیدا ہوئے ۔ آپ کے اساتذہ میں سر فہرست علامہ نامدار حکيم آقا محمد رضا قمشہ اي رضوان اللہ تعالی علیہ تھے۔ آپ کے شاگردوں کی طویل فہرست ہے جس میں مرجع عالی قدرآیۃ اللہ العظمیٰ بروجردی ؒ سر فہرست ہیں۔

  وفات علامہ سید محمد سلطان الواعظین شیرازی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ  ۱۳۹۱ ھ

چودہویں صدی کے معروف عالم ، خطیب اور واعظ جناب علامہ سید محمد سلطان الواعظین رحمۃ اللہ علیہ بانی حوزہ علمیہ قم آیۃ اللہ العظمیٰ شیخ عبدالکریم حائری رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کے شاگرد تھے۔

آپ نے مختلف ممالک کا سفر کیا اور ہندوستان بھی تشریف لائے ، دہلی میں بابائے قوم جناب آنجہانی مہاتما گاندھی سے بھی ملاقات کی، پیشاور میں دس روزہ آپ کا تاریخی مناظرہ اپنی مثال آپ ہے۔ جو بعد میں کتابی شکل میں ’’شب ہائے پیشاور‘‘ کے نام سے طبع ہوا۔ جو آج حق کے متلاشیوں کے مشعل راہ ہے اور کتنوں نے یہ کتاب پڑھ کر مذہب حق قبول کیا۔

واضح رہے پیشاور کے اس تاریخی مناظرہ میں جناب سلطان الواعظین ؒ کے اصحاب میںسے ایک عظیم فیلسوف جناب علامہ سید عدیل اختر زیدی طاب ثراہ تھے جو بانی تنظیم المکاتب خطیب اعظم مولانا سید غلام عسکری طاب ثراہ کے استاد اور مربی تھے۔

بیس شعبان المعظم  ۱۳۹۱ ؁ ھ کو تہران میں آپ کی وفات ہوئی اور حرم اہلبیتؑ قم مقدس میں دفن ہوئے۔

وفات آیۃاللہ سيد محمدعلي مدرس طباطبائی يزدی رحمۃ اللہ علیہ   ۱۴۲۲ ھ

آیۃاللہ سيد محمدعلي مدرس طباطبائی يزدی رحمۃ اللہ علیہ ۱۳۵۸  ھ کو نجف اشرف میں پیدا ہوئے، ابتدائی تعلیم اپنے والد ماجد سے حاصل کے حوزہ علمیہ نجف اشرف کے بزرگ علماء کے سامنے زانوئے ادب تہہ کیا۔  آپ نے آیۃ اللہ العظمیٰ سيدمحمود شاہروديؒ،  آیۃ اللہ العظمیٰ ميرزا حسن بجنورديؒ،  آیۃ اللہ العظمیٰ ميرزا باقر زنجانيؒ و  آیۃ اللہ العظمیٰ سيدمحسن الحکيم رحمۃ اللہ علیہ سے کسب فیض کیا اور درجہ اجتہاد پر فائز ہوئے۔

نجف اشرف سے قم مقدس تشریف لائے اور درس و تدریس میں مصروف ہو گئے۔ آٹھ سالہ ایران عراق جنگ میں بھی ایران کی جانب سے شرکت کی۔

بیس شعبان المعظم ۱۴۲۲ ھ کو قم مقدس میں رحلت فرمائی اور حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا کے روضہ مبارک میں دفن ہوئے۔