وفات آیۃ اللہ سید محمد محقق داماد رحمۃ اللہ علیہ ۱۳۸۸ ؁ھ
حوزہ علمیہ قم کے معروف استاد اور فقیہ آیۃ اللہ سید محمد محقق داماد رحمۃ اللہ علیہ ۱۳۲۵ ؁ھ  میں احمد آباد اردکان ایران کے دیندار گھرانے میں پیدا ہوئے۔ آپ کی ولادت سے قبل آپ کے والد عراق زیارت کے لئے گئے تھے وہیں انتقال فرما گئے۔ جب آپ چھ برس کے ہوئے تو سایہ مادری سے محروم ہوگئے۔
اردکان میں ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد حوزۂ علمیہ یزد تشریف لے گئے، اس کے بعد حوزۂ علمیہ قم تشریف لے گئے جہاں آیۃ اللہ العظمیٰ سید محمد حجت کوہ کمری رحمۃ اللہ علیہ اور بانی حوزۂ علمیہ قم آیۃ اللہ العظمیٰ شیخ عبدالکریم حائری رحمۃ اللہ علیہ جیسے عظیم اساتذہ سے کسب فیض کیا اور درجہ اجتہاد پر فائز ہوئے۔ آپ کی آیۃ اللہ العظمیٰ شیخ عبدالکریم حائری رحمۃ اللہ علیہ کی دختر گرامی سے شادی ہوئی جس کے سبب آپ کو ’’داماد‘‘ کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔
آیۃ اللہ سید محمد محقق داماد رحمۃ اللہ علیہ حوزۂ علمیہ کے معروف استاد تھے۔ آپ کے شاگردوں کی طویل فہرست ہے جنمیں آیۃ اللہ رضا استادی دام ظلہ، شہید آیۃ اللہ محمد مفتح رحمۃ اللہ علیہ، شہید آیۃ اللہ سید مصطفیٰ خمینی رحمۃ اللہ علیہ، مرجع عالی قدر آیۃ اللہ العظمیٰ ناصر مکارم شیرازی دام ظلہ اور آیۃ اللہ العظمیٰ جوادی آملی دام ظلہ سر فہرست ہیں۔


وفات آیۃ اللہ علی نمازی شاہرودی رحمۃ اللہ علیہ ۱۴۰۵ ؁ھ
آیۃ اللہ علی نمازی شاہرودی رحمۃ اللہ علیہ ۱۳۳۳ ؁ھ میں شاہرود کے ایک دینی اور علمی خانوادہ میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد آیۃ اللہ شیخ محمد نمازی شاہرودی رحمۃ اللہ علیہ بھی نامور عالم تھے، ۷۰ ؍ برس سے زیادہ عمر دین کی تبلیغ میں گذاری ۔ آیۃ اللہ العظمیٰ سید ابوالحسن اصفہانی رحمۃ اللہ علیہ اور آیۃ اللہ العظمیٰ سید محمد فیروزآبادی رحمۃ اللہ علیہ نے انکو اجازۂ اجتہاد عطا فرمایا تھا۔
آیۃ اللہ علی نمازی شاہرودی رحمۃ اللہ علیہ نے ابتدائی اور حوزوی تعلیم شاہرود میں اپنے والد اور دیگر اساتذہ سے حاصل کیا ۔ جوانی کی ابتداء میں ہی کل قرآن کے حافظ ہو گئے تھے۔
اس کے بعد نجف اشرف تشریف لے گئے۔ ۲۲ ؍ برس کی عمر میں کتاب فقہ استدلالی تالیف فرمایا۔ مشہد مقدس میں آپ کے اہم ترین استاد آیۃ اللہ میرزا مہدی اصفہانی رحمۃ اللہ علیہ تھے۔ بیان کیا جاتا ہے کہ ایک بار آیۃ اللہ میرزا مہدی اصفہانی رحمۃ اللہ علیہ مشہد سے تہران تشریف لے گئے تو راستہ میں شاہرود میں قیام فرمایا جہاں آیۃ اللہ علی نمازی ؒ کے والد سے ملاقات ہوئی تو والد نے اپنے فرزند کی تعلیمی سرگرمیوں کے بارے میں سوال کیا تو استاد نے فرمایا: وہ مجتہد ہیں اور یہ بات میں یقین سے کہہ رہا ہوں۔
آیۃ اللہ علی نمازی رحمۃ اللہ علیہ نے مختلف موضوعات پر کتابیں لکھی ہیں جنمیں مستدرک سفیۃ البحار زیادہ مشہور ہے۔