رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حجۃ الوداع کے لئے مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے۔ ۱۰ ؁ھ

 وفات آیۃ اللہ العظمیٰ محمد تقی شیرازی رحمۃ اللہ علیہ ۱۳۳۸ ؁ھ

آیۃ اللہ العظمیٰ محمدتقی شیرازی رحمۃ اللہ علیہ المعروف بہ میرزائے دوم ؒ و میرزائے کوچک ؒ ۱۲۵۶ ؁ ھ کو شیراز میں پیدا ہوئےاور ۱۲۷۱ ؁ھ سے کربلائے معلی میں قیام پذیر ہو گئے۔ آیۃ اللہ زین العابدین مازندرانی رحمۃ اللہ علیہ،آیۃ اللہ فاضل ارد کانی رحمۃ اللہ علیہ اورآیۃ اللہ سید علی تقی طباطبایی رحمۃ اللہ علیہ سے تعلیم حاصل کی۔ جب ۱۲۹۱ ؁ھ کو میرزائے بزرگ فقیہ اہلبیتؑ آیۃ اللہ العظمیٰ سید محمدحسن شیرازی رحمۃ اللہ علیہ کربلائے معلی سے سامرہ تشریف لے گئے اور وہاں حوزہ علمیہ قائم فرمایاتو آپ بھی سامرہ تشریف لے گئے اور ان کےخاص شاگردوں میں شامل ہو گئےاور کچھ ہی عرصہ بعد میرزائے بزرگؒ کے حکم سے ان کے کچھ شاگروں کو تعلیم دینے میں مصروف ہو گئے۔
۱۳۱۲ ؁ھ میں جب میرزائے بزرگ ؒ نے رحلت فرمائی توآپ حوزۂ علمیہ سامرا کے زعیم ہوئے اور ۱۳۳۶ ؁ھ تک آپ کی سرپرستی میں حوزہ علمیہ سامرا نے نمایاں ترقی کی۔۱۲۳۶ ؁ھ میں سامرہ سے کاظمین تشریف لائے اور کچھ مد ت بعد کربلا واپس آگئے اور باقی زندگی یہیں بسر کی۔
آیۃ اللہ العظمیٰ محمد تقی شیرازی رحمۃ اللہ علیہ کے شاگردوں کی طویل فہرست ہے جنمیں آیۃ اللہ العظمیٰ آقا بزرگ تہرانی رحمۃ اللہ علیہ، آیۃ اللہ العظمیٰ شیخ عبدالکریم حائری رحمۃ اللہ علیہ اور آیۃ اللہ العظمیٰ سید شہاب الدین مرعشی نجفی رحمۃ اللہ علیہ کے اسمائے گرامی سر فہرست ہیں۔
جس طرح میرزائے بزرگ آیۃ اللہ العظمیٰ سید محمد حسن شیرازی رحمۃ اللہ علیہ کے تنباکو کی حرمت کے تاریخی فتویٰ نے عالمی استعمار کی چولیں ہلا دیں اسی طرح میرزائے دوم آیۃ اللہ العظمیٰ محمدتقی شیرازی رحمۃ اللہ علیہ کے انگریزوں کے خلاف جہاد کے تاریخی فتویٰ نے عراق کو تحفظ اور انگریزوں کو شکست دی۔