No comments yet

باسْمِہٖ سُبْحَانَہٗ باسْمِہٖ سُبْحَانَہٗ اَنَامَدِیْنَۃُ الْعِلْمِ وَعَلِیٌ م بَابُھَا

قواعد و ضوابط مکـــاتــب امـــامـــیــہ
ترمیم شدہ دسمبر ۲۰۱۲ ء

جاری کردہ ادارۂ تنظیم المکاتب،گولہ گنج، لکھنؤ .

 فون نمبر۰۵۲۲

 ۲۶۱۸۱۹۴،۲۶۲۸۹۲۳،۲۶۱۵۱۱۵، ۶۵۶۵۹۸۲۔

نام کتاب ـــــــــــــــــــــــــــ   قواعد و ضوابط   کمپوزنگ ـــــــــــــــــــــــــــ       منہال حیدر زیدی    سنہ طباعت ـــــــــــــــــــــــــــ   دسمبر ۲۰۱۲ء      تعداد ـــــــــــــــــــــــــــ دوہزار    ناشر ـــــــــــــــــــــــــــ تنظیم المکاتب گولہ گنج لکھنؤ (انڈیا)     قیمت ـــــــــــــــــــــــــــ

نوٹ  منتظمین و مدرسین مکاتب امامیہ سے گذارش ہے کہ قواعد و ضوابط کا مطالعہ مکمل طور سے کر لیں اور اسی کے مطابق مکتب میں نظم و نسق کو برقرار رکھیں ۔
باسمہ سبحانہ
دفعہ نمبر۔۱ شرائط الحاق
ادارۂ تنظیم المکاتب کے تمام مکاتب کو ادارہ کے جاری کردہ تمام ہدایات پر عمل کرنا ہوگا اور مکتب کے منتظمین و مجلس عام اور مدرسین وغیرہ کا فرض ہوگا کہ وہ ادارہ کے تمام ہدایات کی تعمیل کریں۔مکتب کے تمام امور میں ادارہ کو ہمیشہ مکمل بالادستی حاصل رہے گی۔ جو مکتب ادارہ کی منظوری حاصل کئے بغیر از خود الحاق ختم کرے گا اس کو ادارہ سے حاصل کردہ تمام رقوم واپس کرنا ہو ںگی۔مکتب بند ہو جانے کی صورت میں مکتب کی عمارت اور جائداد اور ملکیت اور تحویل وغیرہ کی مکمّل نگرانی ادارۂ تنظیم المکاتب رکھے گا اور بستی والوں کے مشورہ کے مطابق اس کا آخری فیصلہ کیا جائے گا۔درخواستِ الحاق کا مطلب ہوگا کہ درخواست دہندہ جماعت اور اس کے نمائندے کو مندرجہ بالا شرائط ِ الحاق منظور ہیں۔ دفعہ نمبر۔۲ طریقۂ الحاق
ادارہ کے مطبوعہ فارم پر الحاق کی درخواست دی جائے اور حسب ذیل اطلاعات فراہم کی جائیں : ۱۔ اسمائے ممبران مجلس انتظام منتظم و نائب منتظم اور محاسب۔۲۔ اسمائے ممبران مجلس عام مع شرح اعانت۔۳۔ مقامی آمدنی کا ماہانہ اوسط کتنی رقم اس وقت جمع ہے۔۴۔ اسمائے مدرسین مع تفصیل (عمر ولیاقت، تجربہ اور تنخواہ)۔۵۔ تعداد طلاب مع تفصیل درجات (کم از کم پندرہ طلاب کا ہونا ضروری ہے)۔۶۔ قریب ترین بستی کا نام جہاں اس وقت مکتب قائم ہے اور اس کا فاصلہ۔۷۔ بستی تک پہنچنے کے راستے کی تفصیل۔۸۔ قریب ترین ریلوے اسٹیشن کا نام جہاں پارسل بھیجا جا سکے۔۹۔ نزدیک ترین بینک کا نا م اور پتہ جہاں مکتب کے لیے اکائونٹ کھل سکتاہو۔ ۱۰۔ مومنین کی آبادی کی تفصیل۔۱۱۔  رقومِ شرعیہ کے پابند افراد کی تعداد۔۱۲۔ دینی تعلیم کے ضرورت مند افراد کی تعداد۔ مندرجہ بالا اطلاعات کے ساتھ دی جانے والی درخواست کے بعد ادارہ کا انسپکٹر معائنہ کرے گا جس کی رپورٹ کی روشنی میں امداد کا فیصلہ ہوگا۔دفعہ نمبر۔ ۳  دستور العمل
ہر مکتب کا دستور العمل حسب ذیل ہوگا اور اسی دستور العمل کے مطابق مکتب کا رجسٹریشن ہوگا:۱ـ۔ نام:اس مکتب کا نام مکتب امامیہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ضلع۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہوگا۔۲۔ مکتب کا پورا پتہ: اس مکتب کا پتہ حسب ذیل ہوگا اور مکتب کا دفتر عمارت مکتب میں رہے گا۔ مکتب امامیہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ڈاک خانہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ضلع۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔صوبہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۳۔ دائرۂ عمل : اس مکتب کا دائرۂ عمل موضع/محلہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہوگا۔۴۔ اس مکتب کاالحاق تنظیم المکاتب لکھنؤ سے ہمیشہ رہے گا اورتمام امور میں تنظیم المکاتب کے احکام و ہدایات نافذ العمل ہوں گے ۔مکتب سے وابستہ شخص کیلئے تنظیم المکاتب کے قواعدو ضوابط کی پابندی ضروری ہوگی ۔دفعہ نمبر۔۴اغراض ومقاصد۱) الف۔ ابتدائی تعلیم کا انتظام کرنا۔ ب۔ اخلاقی سدھار کی کوشش کرنا۔ ج۔ تعلیم بالغان کا انتظام کرنا۔ د۔ تعلیم نسواں کاانتظام کرنا۔ ہ۔ دارالمطالعہ اور لائبریری قائم کرنا۔ و۔ مندرجہ بالا مقاصد کے لئے سرمایہ فراہم کرنا۔ ۲)رکنیت :  اس مکتب کے حسب ذیل قسم کے ممبر ہوں گے: (۱) عمومی (۲) خصوصی (۳) دائمی (۴) سرپرست    (الف) جوشخص ایک سو بیس روپیہ سالانہ یا دس روپیہ ماہانہ سے مکتب کی امداد کرے گا وہ عمومی ممبر ہوگا۔ (ب) جو شخص ایک سواسی روپیہ سال یا پندرہ روپیہ ماہانہ سے مکتب کی سالانہ امداد کرے گا وہ خصوصی ممبر ہوگا۔ (ج) جو شخص مکتب کو ایک ہزار روپیہ باقساط دے گا وہ دائمی ممبر ہوگا۔ یہ قسطیں دو سو روپیہ                                             سال یا بیس روپیہ ماہوار کے حساب سے ادا کی جائیں گی۔ (د) جو شخص ایک ہزار روپیہ یک مشت یا دو قسطوں میں مکتب کو دے گا وہ سر پرست ہوگا۔ (ہ) سرپرست اوردائمی ممبر کی فیس خرچ نہیں کی جائے گی بلکہ سرمایہ محفوظ قرار دی جائے گی اور بینک میں مکتب کے نام فکسڈ ڈپازٹ کی جائے گی۔ (و) جو شخص مکتب کا عمومی یا خصوصی یا دائمی ممبریا سرپرست ممبر ہوگا صرف اسی کو مکتب کے     بارے میں دخل دینے کا حق ہوگا کسی دوسرے کو اس کی جگہ رائے دینے کا حق نہ ہوگا۔۳)اختتام رکنیت: جس رکن کو مجلس عام کے دو تہائی ارکان مفادِ مکتب کے خلاف کسی عمل کا  مرتکب قرار دیں اس کی رکنیت ختم ہو جائے گی اور رکنیت کے ساتھ عہدہ بھی ختم ہو جائے گا۔۴)تنظیم  :  اس مکتب کی تنظیم کے دو جز ہوںگے:(۱) مجلس عام (۲) مجلس انتظام۵)مجلس عام الف: ہر عمومی، خصوصی، دائمی ممبراور سرپرست مجلس عام کا ممبر ہوگا۔ دائمی ممبراور سرپرست تاحیات ممبر رہیں گے۔ عمومی اور خصوصی ممبر جب تک چندہ دیتے رہیں گے ممبر رہیں گے۔ اگر کسی ممبر کے ذمہ تین ماہ سے زیادہ کا چندہ باقی ہوگا تو مجلس عام کی کسی کارروائی میں اس وقت تک حصّہ نہ لے سکے گا جب تک بقایا چندہ ادانہ کردے۔ب: مجلس عام کا سالانہ جلسہ جنوری یا محرّم میںہوا کرے گا جس میں مجلس انتظام اور          عہدہ داروں کا انتخاب ہوگا۔جلسہ میں حساب کے ساتھ تحویل بھی پیش کی جائیگی۔ سالانہ جلسہ کے علاوہ بوقت ضرورت ہنگامی جلسہ بھی کیا جاسکتا ہے۔ج: مجلس عام کے سالانہ اور ہنگامی جلسہ کا ایجنڈہ منتظم جاری کرے گا۔ سالانہ جلسہ کا           ایجنڈہ پندرہ دن قبل اور ہنگامی جلسہ کا ایجنڈہ تین دن قبل جاری کیا جائے گا۔    (نوٹ : ایجنڈہ سے مراد تحریری اطلاع ہے۔)د: مجلس عام کے جلسہ کا کورم ممبران کی تعداد ۴/۱ حصّہ ہوگا اور تحریری رائے بھی کارروائی میں شامل کی جائے گی۔ ہ: مجلس عام مکتب کی نگراں جماعت ہوگی جو مجلس انتظام اور عہدہ داران کا انتخاب کرتی      رہے گی۔۶) مجلس انتظام الف: مجلس انتظام مکتب کے بارے میں تمام اختیارات و حقوق اور تصرّفات کی مالک  ہوگی اور اس کے تمام فیصلے، تجاویز، نافذ اور واجب العمل ہوں گے۔ ہر ایک مجلس انتظام کی مدّت ایک سال ہوگی۔ب: اس کے ارکان کی تعداد کم سے کم پانچ ہوگی اس سے زیادہ تعداد کا فیصلہ مجلس عام            کرے گی۔ اور ہر سال محرّم یا جنوری میں مجلس عام، مجلس انتظام کا انتخاب کرے گی۔ انتخاب اتفاق رائے سے ہو گا۔اور بصورت اختلاف رائے ارکانِ مجلس انتظام اور عہدہ داران کا انتخاب بذریعہ قرعہ اندازی ہوگا۔ اور میعاد ختم ہونے کے باوجود مجلس انتظام اور عہدہ داران کا جدید انتخاب نہ کیا جائے تو تنظیم المکاتب کو حق ہوگا کہ وہ ضرورت سمجھے تو تا انتخاب جدید عارضی مجلسِ انتظام و عہدہ داران نامزد کردے۔ اگر درمیانِ سال کسی رکن مجلسِ انتظام یا عہدہ دار کی جگہ خالی ہو تو مجلس انتظام کے باقی ارکان اتفاق رائے سے یا قرعہ اندازی سے اس کا انتخاب کریں گے۔ ج: مجلسِ انتظام کے جلسہ کا طلب کرنا منتظم کا فرض ہوگا۔ عام حالات میں ایک ہفتہ قبل                اور ہنگامی حالات میں چھ گھنٹہ قبل اطلاع دینا کافی ہوگا ۔ سال میںکم ازکم چار جلسے کرنا ضروری ہوگا ۔ مجلسِ انتظام کا کورم کل ارکان کے نصف سے ایک ممبر زائد کی تعداد ہوگی(مثلاًکل ممبر ۵ہوں تو کورم ۳ہوگا ۷؍ہو تو ۴ہوگا۔جس میں تحریری رائے بھی شریک اور شمار کی جائے گی۔   د: تنظیم المکاتب کا کوئی انسپکٹر یا کوئی عہدہ دار یا فرستادہ اگر ضرورت سمجھے تو اپنی موجودگی         میں مجلس عام یا مجلس انتظام کاجلسہ فوراًطلب کرسکتا ہے اور اس جلسہ کے لئے کورم کل تعداد کا ۴/۱ حصّہ ہوگا اور ایجنڈہ کے اجرا کی مدت کی پابندی لازم نہ ہوگی اور جو فیصلے اس کی موجودگی میں مجلس عام یا مجلس انتظام کرے گی وہ نافذ ہوںگے چاہے وہ کارروائی انتخاب مجلس عہدیداران ہی کیوں نہ ہو۔ہ: مجلس عام یا مجلس انتظام: اگر ارکان مجلس انتظام و عہد یداران کے لئے خصوصی شرح اعانت کو لازمی قرار دے تو ہر رکن اور عہدہ دار کے لئے اس شرح اعانت کے مطابق زرِ رُکنیت کے علاوہ چندہ دینا لازم ہوگا اور عدم ادائیگی کی صورت میں اس کی رکنیت یا عہدہ باقی نہ رہے گا۔ و: کسی مکتب کا مدرس یا ملازم اس مکتب کی مجلس انتظام کا رکن نہیں ہو سکتاجہاں وہ تعلیم دے رہا ہے ۔۷)عہدہ داران: الف: مکتب کے عہدہ داران حسب ذیل ہوں گے جن کی مدت ایک سال ہوگی اورجو          ممبران مجلسِ انتظام میں سے منتخب کئے جائیں گے (۱) منتظم  (۲) نائب منتظم (۳) محاسب جن کا انتخاب ہر سال محرّم یا جنوری میں مجلس عام کیا کرے گی۔ ب:  منتظم :منتظم مکتب کے نظم و نسق کا مکمّل ذمہ دار ہوگا اور مجلس انتظام کے ہدایات کے                                    مطابق کام کرے گا۔ تمام حسابات و کاغذات کو مرتب و محفوظ رکھنا تمام سرمایہ اور ملکیت کی حفاظت کرنااور مکتب کو فعّا ل و متحرک رکھنا اسکی ذمہ داری ہوگی نیز اس کا فرض ہوگاکہ مجلس عام کے سالانہ جلسہ میں محاسب کی رپورٹ کے ساتھ تحویل پیش کرے۔(تحویل سے مرادنقد رقم اور ڈاکخانہ یا بینک کی پاس بُک اور سرٹی فکٹ وغیرہ ہیں)  ج: نائب منتظم : منتظم کے تفویض کردہ امور کو انجام دے گا اور منتظم کی عدم موجودگی کی         صورت میں منتظم کے حقوق و فرائض کا حامل ہوگا ۔د: محاسب : محاسب کا فرض ہوگا کہ تمام کاغذات  اور پورے سال کے حسابات کی جانچ کرکے جنوری یا محرّم میں اپنی رپورٹ مجلسِ عام کے جلسہ میں پیش کرے اور مجلسِ انتظام کی تحریری تصدیق حاصل کرے اور رپورٹ کی ایک نقل دفتر تنظیم المکاتب کو بھیج دے۔رپورٹ میں اگر ضرورت سمجھے تو اپنی تجاویز اور سفارشات کو بھی درج کردے ۔ ہ: جن عہدہ داران کے پاس مکتب کے کاغذات ، ما لیات یا کوئی ملکیت خلافِ ضابطہ رہ جائے گی اور وہ اس کو واپس نہ کرنے کے مرتکب ہوں گے ایسے افراد کبھی مجلسِ انتظام      کے رکن اور عہدہ دار منتخب نہیں کئے جائیں گے اور مجلسِ انتظام کا فرض ہوگا کہ وہ مکتب کے مطالبہ کو ضرور حاصل کرے اور جدید عہدہ دار کو کل سرمایہ و کاغذات دلا دے اور رجسٹرِ کارروائی پر مکمّل اندراج کرا دے۔ و: مدرسین و دیگر ملازمین کا عارضی تقرر منتظم بہ مشورئہ مجلس انتظام کرے گا اور ہر تقررکی        منظوری تنظیم المکاتب سے حاصل کرنا ضروری ہوگی ،منتظم کی سفارش پر تنظیم المکاتب        فیصلہ کرے گا۔ مدرسین کے عارضی تقرر میں بھی دفعہ ۔۹میںبیان کئے گئے شرائط کی        پابندی لازم ہوگی ۔مدرسین و دیگر ملازمین کی بر خواستگی وغیرہ سے پہلے ادارہ کو اس کے اسباب و علل سے با خبر کرنا ضروری ہوگا اور ادارہ کی منظوری حاصل کرنی ہوگی۔منتظم کے فیصلہ کے خلاف ہر مدرس یا ملازم، مجلسِ انتظام یا تنظیم المکاتب میں اپیل کر سکے گا اور آخری فیصلہ تنظیم المکاتب کا ہوگا۔ ۸)ترمیم دستور العمل      دستور العمل میں کوئی تبدیلی اسی وقت ہو سکے گی جب مجلسِ عام کے ارکان کی دو تہائی        تعداد اس ترمیم کو تجویز کرے اور اس ترمیم کی منظوری تنظیم المکاتب سے حاصل ہو جائے۔ ۹)حساباتالف: مکتب کے لئے زر رُکنیت، اعانت، عطایائے خاص رقوم شرعیہ اور مرکزی امداد نیز دیگر ذرائع سے سرمایہ فراہم کیا جائے گا، رقوم شرعیہ میں امام ضامن، چرم قربانی، عقیقہ، زکوٰۃاور خیرات وغیرہ لئے جا سکتے ہیں۔ خمس نہیں لیا جاسکتا۔ اگر بجٹ پورا نہ ہو تو تنظیم المکاتب کے ذریعہ ضرورت بھر مقدار کے لئے سہم امام  – کی اجازت حاصل کی جائے گی۔ سہم امام  – سے وصول شدہ رقم صرف دینی تعلیم پر خرچ ہوگی، وصول شدہ سہم امام علیہ السلام کا مکمّل حساب علیٰحدہ سے ادارہ کو بھیجنا ہوگا۔ نوٹ : آئندہ اجازت حاصل کرنے کے خیال سے سہم امامؑ کی رقم وصول نہیں کی جاسکتی۔  ب: علاوہ رقوم شرعیہ باقی آمدنی کا بیسواں حصّہ، سرمایہ محفوظ قراردیا جائے گا نیز جو عطایا          سرمایہ محفوظ کے لئے حاصل ہوں گے یا جن رقوم کو مجلسِ انتظام سرمایہ محفوظ قرار ے گی وہ سب سرمایہ محفوظ شمار ہوں گی اور بینک میں مکتب کے نام فکسڈ ڈپازٹ کی جائیں گی البتہ مکتب کی کسی اہم ضرورت کے لئے تنظیم المکاتب کی اجازت کے بعد سرمایہ محفوظ سے قرض لیا جا سکے گا مکتب کی کوئی رقم کسی صورت میں بھی کسی فرد، جماعت یا انجمن کو قرض نہیں دی جاسکتی۔ج: عطایائے خاص معطی کے منشاء کے مطابق اور رقوم شرعیہ اعلم وقت کے فتوے کے مطابق جمع اور خرچ کی جائیں گی۔تمام رقوم بینک میں مکتب کے نام سے جمع کی جائیں گی اور ان کی درآمد، بر آمد منتظم نائب منتظم اور محاسب میں سے کسی دو کے دستخط سے کی جائے گی۔د:    نقد تحویل صرف ایک ماہ کے خرچ بھر رکھی جا سکتی ہے اس سے زیادہ رقم کا بینک       یا ڈاکخانہ میں جمع کرنا ضروری ہوگا، نیز منتظم کا فرض ہوگا کہ معائنہ کے وقت انسپکٹر کو         نقد تحویل اور پاس بُک وغیرہ کا معائنہ بھی کرا دے۔  ۱۰) آڈٹ: تمام حسابات کی جانچ مکتب کا محاسب اور تنظیم المکاتب کا انسپکٹر کیا کرے گا۔۱۱) عدالتی کارروائی کے لئے شخص مجاز مکتب کے خلاف یا موافق عدالتی کارروائی میں منتظم مکتب کی طرف سے کارروائی کرنے کا مجاز ہوگا۔منتظم اور نائب منتظم دونوں کی عدم موجودگی یا نا اہلی کی صورت میں مجلسِ انتظام یا تنظیم المکاتب جس کو مجاز قراردے گا وہ عدالتی کارروائی کا مجاز ہوگا۔  ۱۲) رجسٹر اور کاغذات : مکتب میں وہ تمام رجسٹر اورکاغذات وغیرہ مرتب رکھنا ضروری ہوںگے جن کو مرتب رکھنا تنظیم المکاتب ضروری قرار دے۔ ۱۳) اختتام مکتب: اگر خدا نخواستہ مکتب بند ہو جائے تو اس کے تمام سرمایہ اور ملکیت کی مکمّل نگرانی ادارہ تنظیم المکاتب کرے گا اور ادارہ تنظیم المکاتب بستی کے مومنین کے مشورہ کے مطابق آخری فیصلہ کرے گا۔      الف: اگر کسی مکتب کو کوئی انجمن یا جماعت قائم کرے گی اور تنظیم المکاتب سے اس کا الحاق کرے گی تو وہ انجمن یا جماعت اس مکتب کی مجلس عام ہو گی اور اس انجمن یا جماعت کا فرض ہو گا کہ ہر سال جنوری یا محرّم میں دستور العمل کے قواعد کے مطابق مجلس انتظام وعہدہ داران کا انتخاب کرکے مرکز کو مطلع کرے اس بات کے علاوہ دستور العمل میں مندرج تمام دفعات کا نفاذ ایسے مکاتب پر بھی ہوگا۔ب: مندرجہ بالا مکاتب کی آمدنی و خرچ کا حساب انجمن یا جماعت کے خرچ اورآمدنی       کے علاوہ ہوگا انجمن یا جماعت کے حساب سے یا کسی معاملہ سے تنظیم المکاتب کوئی تعلق نہ رکھے گا اور نہ کوئی حساب دیکھے گا اور نہ کسی انجمن یا جماعت کو حق ہوگا کہ وہ مکتب کی رقم دینی تعلیم کے علاوہ کسی دوسرے کام پر خرچ کرے۔
دفعہ نمبر۔۵ تدوین کاغذات
مکتب میں حسب ذیل رجسٹروں اور فائلوں کا مرتب رہنا ضروری ہے:
(الف) رجسٹر:(۱) رجسٹر ممبرانِ مجلسِ عام (۲) رجسٹر کارروائی اجلاس (مجلسِ عام ومجلسِ انتظام)(۳) کیش بُک(۴) رجسٹر قبض الوصول (۵) رجسٹر احکام منتظم (۶) رجسٹر حاضری طلاب و مدرسین (۷ ) رجسٹر امتحانات (۸) رجسٹر داخل خارج
(ب) رسید بُک: مکتب میں صرف ادارہ کی مطبوعہ رسید بُک استعمال کی جائے یہ رسید بُک کسی دوسرے مکتب کو نہیں دی جائے گی۔ رسید بُک مکتب کی جانب سے طبع کرانا اگر ضروری ہو تو اس کی اجازت تنظیم المکاتب سے حاصل کرنا لازم ہوگا اور ہر آمدنی خواہ قرض ہی کیوں نہ ہو اس رسید بُک پردرج ہونا ضروری ہے۔ (ج) نقشہ جات: (۱) نقشہ ماہانہ (۲) نقشہ تعطیلات (۳) نقشہ حسابات وبجٹ    (د)کتابچہ۔ قواعد وضوابط (ہ)فائلیں: مکتب میں حسب ذیل فائلیں بھی مرتب رکھی جائیںگی: (۱) گارڈ فائل برائے رسیدات خرچ (۲) فائل درخواست و خطوط (۳) نقشہ ماہانہ                (۴) نقشہ معائنہ (۵) رخصت مدرسین(و) نقشہ ترسیلِ کاغذات کو فائل میں اور ایجنڈے کے کاغذات کو رجسٹر کارروائی میںچسپاں کیا جائے۔ز: تمام رجسٹر اور کاغذات کا ہمہ وقت عمارت مکتب میں رہنا ضروری ہے تاکہ معائنہ میںدقت نہ ہو۔کاغذات کا مدرس یا منتظم کے گھر پررہنا خلاف ضابطہ بھی ہے۔اورا کثر معائنہ میں حارج بھی ہوتا ہے۔اگر منتظم کسی ضرورت سے وطن سے باہر جائے تو نائب منتظم یا محاسب کو وقتی طور پر کاغذات وتحویل بھی دیدے تاکہ معائنہ کے وقت انسپکٹر جانچ کرسکے ۔  ح: رجسٹر  ۱؎ تا ۵؎ کو مرتب رکھنا منتظم کی ذمہ داری ہے۔ رجسٹر ۶؎  تا ۸ ؎ کو مرتب رکھنا مدرس کی ذمہ داری ہے۔ منتظم اپنے رجسٹر بہ اجرت مدرس سے مرتب کراسکتاہے۔ نوٹ:رجسٹر اور کاغذات کے تدوین کا طریقہ ادارہ کے انسپکٹر سے یا کسی قریبی مکتبسے معلوم کرلینا چاہئے ۔دفعہ نمبر۔۶ ترسیل کاغذات
۱۔ نظام الاوقات ترسیل کاغذات کے نقشہ کے مطابق کاغذات کا پابندی سے معینہ تاریخ پر روانہ کرنا ضروری ہے ۔   ۲۔ ہر حساب پر روانگی سے قبل نظر ثانی ضرور کر لیں تاکہ اندراجات صحیح ہوں۔  ۳۔ ہر کاغذ کی نقل مکتب میں ضرور رکھیں۔ ۴۔ تمام کاغذات، ہدایات بسلسلئہ تدوین کاغذات کے مطابق مرتب کریں۔ ہدایات کی خلاف ورزی ہر گز نہ کریں ۔ ۵۔ ادارہ سے جو کتابیں رجسٹریا فارم وغیرہ مطلوب ہوں ان کو ہمیشہ الگ کاغذپر مطلوبہ تعداد کی وضاحت کے ساتھ بھیجیں تاکہ مطلوبہ اشیاء جلد بھیجی جاسکیں امداد لینے والے مکاتب کو قیمت بھیجنے کی ضرورت نہیں ہے قیمت امداد میںوضع ہوجائے گی ۔جس کی رسید بمد مرکزی امداد بشکل کتب کاٹی جائے کیش بک (خرچ)میں خرید کتب درج ہو آرڈر پر منتظم یا نائب منتظم کے دستخط ضروری ہیں صرف مدرس کے دستخط سے آرڈر کی تعمیل نہ ہوگی ۔   ۶۔ کمیشن کتب بھی ادارہ نقد بھیجتا ہے جس کی رسید بمد کمیشن کاٹ کر متفرق آمدنی میں درج کی جائے گی۔نوٹ: کاغذات پر مکتب کا نام، نمبر پتہ اور تاریخ کا لکھنا اور دستخط کرنا نہ بھولیں۔
دفعہ نمبر۔۷مالیات    مکتب کے ذرائع آمدنی حسب ذیل ہو سکتے ہیں: ۱)مرکزی امداد: ادارہ اپنے ملحقہ مکاتب کو ماہانہ امداد دیتا ہے ۔یہ امداد تعداد طلاب،تعدادمدرسین، تعداد درجات،نتیجہ ٔ امتحان سالانہ،مکتب کی مالی حالت اور ادارے کے بجٹ کے پیش نظر معین کی جاتی ہے ۔جس پرہر معائنہ کے بعد نظر ثانی کی جاتی ہے ۔اس امداد میں کبھی بھی کمی زیادتی ممکن ہے ۔جن مکاتب کا نتیجہ ۵۰ فیصد سے کم ہو گا ان کی امدادخودبخود معطل ہو جائے گی۔  امداد جاری رکھنے کیلئے ضروری ہوگا کہ کم از کم ۵۰ فیصدطالب علم امتحان سالانہ میںکامیاب ہوں ۔ مکاتب کو غیر تربیت یافتہ مدرسین کی اصل تنخواہ کی ۳/۱ اور تربیت یافتہ مدرسین کی اصل تنخواہ کی ۵/۲ امداد دی جائے گی لیکن ادارہ حالات کے پیش نظر اس اصول میں تبدیلی بھی کر سکتا ہے۔ مذکورہ امداد اسی صورت میں دی جائے گی جب تنخواہ گریڈ کے مطابق ہوگی ۔ امداد معائنہ کے بعد معین کی جاتی ہے۔امداد اسی وقت بھیجی جائے گی جب نقشہ ماہانہ آجائے گا اور دو ماہ مسلسل نقشے پابندی سے نہ آئے تو نقشہ آجانے کے بعد دس فیصدی اور ۶ ماہ مسلسل نقشے پابندی سے نہ آئے تونقشہ آجانے کے بعد ۵۰ فیصدی امداد وضع کر کے بھیجی جائے گی اور اگر مسلسل ایک سال کے نقشے پابندی سے نہ آئے تو اس مدت کی امداد نہ دی جائے گی ۔ ادارہ مکتب کو امداد دیتا ہے مدرس کی تنخواہ نہیں دیتا ہے ۔۲) راحت الائونس: مرکزی امداد کے علاوہ ماہانہ راحت الائونس بھی مرکز دے گا مگر یہ اسی وقت دیا جائے گا جب مرکز کے ا علان کے مطابق مکتب راحت الائونس کی ادائیگی کرے۔ مدرس کو ملنے والے راحت الائونس کا% ۶۰ ادارہ اور% ۴۰ مکتب دے گا۔یہ الائونس نتیجۂ امتحان ۵۰ فیصدی یا اس سے کم ہونے پر معطل ہو جائے گا۔راحت الاؤنس اسی وقت دیا جائے گا جب گریڈ کے مطابق تنخواہ دی جائے گی۔امداد اور راحت الاؤنس کے شرائط۱۔ اگر نتیجۂ امتحان سالانہ 50%سے کم ہوگا تو پورے سال کے لئے امداد اور راحت الاؤنس کو نصف کر دیا جائے گا۔۲۔ امتحان کے مہینہ کو شامل کرکے چار ماہ میں اگر تعداد طلاب ۱۵ سے کم رہے گی تو چھ ماہ کے لئے امداد اور راحت الاؤنس نصف ہو جائیں گے بشرطیکہ اس کے بعد تعداد ۱۵ ہو جائے اور اگر اس مدت کے بعد بھی تعداد پندرہ نہ ہوئی تو نصف امداد اور راحت الاؤنس ہی دیا جائے گا۔۳۔ جس مدرس کے ایام کارکردگی ۲۰۰ دن سے کم ہوں گے اس کی امداد اورراحت الاؤنس کو کم از کم ۶ ماہ کے لئے نصف کر دیا جائے گا اگر اس دوران اوسط حاضری درست ہو گئی تو امداد حسب سابق ہو جائے گی ورنہ جب تک ایام کارکردگی ایک سال میں ۲۰۰ دن کے اوسط پر نہیں آئیں گے صورت برقرار رہے گی۔ (امداد اور راحت الاؤنس کے کم ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ادارہ مکتب کو یہ رقم نہیں دے گا اور اتنی ہی رقم مدرس کی تنخواہ سے کم ہو جائے گی۔)۳) سرکاری امداد :  جن مکاتب کا الحاق حکومت کے شعبۂ تعلیم سے بھی ہے اور حکومت سے امداد مل رہی ہے ایسی امداد سرکاری امداد کہلائے گی۔۴) بیرونی امداد: ادارہ اور حکومت کے علاوہ کسی وقف یا انجمن وغیرہ سے حاصل ہونے والی امداد بیرونی امداد کہلائے گی۔۵) مقامی آمدنی:  مقامی آمدنی کے ذرائع حسب ذیل ہیں: ۱۔ عمومی ممبری، خصوصی ممبری، دائمی ممبری کی فیس ، سرپرست اور ارکان مجلس انتظام مکاتب سے ملنے والی رقم۔۲۔ چٹکی فنڈ: آٹا چاول وغیرہ جسے روزانہ مکتب کے رکھے ہوئے ظرف میں اہل خانہ ڈال دیں اور اسے ہفتہ میں ایک یا دو بار جمع کر لیا جائے۔۳۔ غلّہ فنڈ: فصل کی تیاری پر جو غلّہ زکوٰۃ کے علاوہ وصول ہو۔۴۔ تقریب فنڈ: شادی اور غم کے موقع پر ملنے والا عطیّہ۔ ۵۔ رقوم شرعی: زکوٰۃ، چرم قربانی، امام ضامن، صدقہ وغیرہ۔ ۶۔ سہم امامؑ: خمس کا نصف حصّہ بشرطیکہ اس کے لئے موجودہ مرجع تقلید سے براہ راست یامرکز کے توسط سے تحریری اجازت حاصل کر لی گئی ہو۔۷۔ فروخت کتب نصاب: جو کتابیں مکتب نے فروخت کی ہیں۔۸۔ متفرق: فروخت ناقابل استعمال سامان مکتب، کمیشن کتب وغیرہ۔۹۔ اعانت: غیر مستقل عطایا۔۱۰۔ قرض: جو کسی ضرورت کے لئے لیا جائے۔۶)مکتب کی خود کفا لتی:الف: استحکام اور بہتر تعلیم کے لئے توسیع آمدنی کی ہر ممکن کوشش ضروری ہے۔ خصوصاً رقوم شرعیہ نکالنے کی تحریک کو مومنین میں قوی اور وسیع کیا جائے۔ معائنہ کے لئے جب بھی انسپکٹر جائیں تو ان کے ذریعہ چندہ کی وصولی کی جائے اور اس سلسلہ میںان سے مدد لی جائے اور ان کی مدد کی جائے۔ب: ادارہ نے سالانہ حساب اوربجٹ کا جو نقشہ شائع کیاہے اس کو معینہ تاریخ پر بھر کر روانہ کرناچاہئے ( نظام الاوقات ترسیل کاغذات برائے صدر دفتر آخر میں درج ہے) تاکہ سالانہ خسارہ پورا کرنے کی مہم میں منتظم اور انسپکٹر ایک دوسرے کی مدد کر سکیں اور ادارہ صورت حال سے باخبر رہے۔ ج: مکتب کے لئے چندہ وصولنے پر کوئی کمیشن نہیں دیا جائے گا۔ یہ خدمت صرف ان لوگوںسے لی جائے گی جو رضا کارانہ طور پر تیار ہوں۔دفعہ نمبر۔۸عمارت  مکتب کی جگہ ایسی ہونی چاہئے جو تعداد طلاب، تعداد درجات اور موسم کے لحاظ سے مناسب ہو۔مکتب ، عام جگہ پر ہونا چاہئے ۔ گھریلو مکتب قابل قبول نہ ہوگا۔مکتب کے سلسلہ میں زیادہ سے زیادہ مومنین کا تعاون حاصل کرنے کی کوشش کی جائے۔ مکتب کی ذاتی عمارت کیلئے منصوبہ بندی سے کام لیا جائے۔ مثلاً مخیر افراد سے مکتب کے نام زمین حاصل کرکے رجسٹری کرائی جائے۔ عمارت کی تعمیر سے پہلے مکتب کیلئے ذرائع آمدنی پیدا کئے جائیں۔
دفعہ نمبر۔۹ مدرسین۱)تقرر :   ہر تقررعارضی ہوگا۔منتظم عارضی تقرر کرکے ادارہ کی منظوری حاصل کرے گا یا منتظم کی درخواست پرمرکز تقرر کرے گا۔ اورایسے مدرس کا تقرر نہ کیا جائے گا جو مرکز کی اجازت کے بغیر مکتب کو چھوڑ کر کسی دوسرے مکتب میں اپنی مرضی سے چلاجائے ۔انتہائی ضرورت کی صورت میںبھی مرکز کی منظوری لازمی ہوگی اور انہیں ابتدائی گریڈ دیا جائے گا۔راحت الائونس اور خصوصی الائونس نہیں دیا جائے گا۔ ۳۵بچوں پرایک مدرس کا تقرر کیا جائے گا۔   ۲) تعلیمی لیاقت برائے مدرس : تنظیم المکاتب کے نصاب پر مکمل عبور حاصل ہو جس کا فیصلہ  تعلیمی جائزہ لیکر کیا جائے گا۔۳) پیش نماز مدرس : اعلیٰ تعلیم کے لئے کسی جامعہ میں درجہ عالم یا اس کے مساوی تعلیم حاصل کی ہو۔ جس کے ثبوت کے لئے سند یا مسؤل جامعہ کی تحریر پیش کرنا ضروری ہوگی۔  ۴) عمر وصحت:  عمر اتنی کم نہ ہونی چاہئے کہ طلاب کو قابو میں نہ رکھ سکے اور نہ اتنا زیادہ سن ہو کہ ازکاررفتہ ہو۔ متعدی اور قابل نفرت امراض میں مبتلا نہ ہو۔ ۵) دینی پابندی : مدرسین کے لئے طہارت، نماز، روزہ ،داڑھی ،حجاب اور دیگر احکام دین کی پابند ی لازمی ہوگی۔۶) تبادلہ : تبادلہ کی صورت میں جس جگہ تبادلہ کیا گیا ہے وہاں پہونچ کر تعلیم شروع کرنے کی مدت زیادہ سے زیادہ پانچ یوم ہوگی۔ اس مدت میں تین یوم کی تنخواہ وہ مکتب دے گا جہاں سے تبادلہ کیا گیا ہے اور دو یوم کی تنخواہ اس مکتب کے ذمہ ہوگی جہاں کے لئے تبادلہ کیا گیا ہے۔مذکورہ مدت سے زیادہ غیر حاضری کی صورت میں مدرس مذکورہ تنخواہ کا حقدار نہ ہوگا۔ اگر ادارہ کے تبادلہ پر مدرس تبادلہ کی جگہ پر نہ جائے تو اس کی ملازمت ختم کی جاسکتی ہے ۔ اور اگر مدرس خود اپنی مرضی سے کسی مکتب کو چھوڑ کر خود کسی دوسری جگہ تقرر کرالیتا ہے تو اسکی تقرری منظور نہیں ہو سکے گی۔۷) تنخواہ مدرسین: مدرسین کو گریڈ کے مطابق ہر ماہ کی پہلی تاریخ کو تنخواہ اور راحت الائونس دینا منتظم کا فرض ہوگا۔اس کے لئے امداد مرکز کا انتظار نہیں کیا جائے گا۔ مدرسین کی تنخواہ کے گریڈ حسب ذیل ہیں۔ان کی خلاف ورزی ہرگز نہ کی جائے ۔مکتب (چار گھنٹے تعلیم)مدرسینابتدائی تنخواہراحت الائونسکل تنخواہسالانہ ترقیانتہائی تنخواہانتہائی تنخواہ مع راحت الائونستربیت یافتہ پیش نماز2000/=1000/=3000/=40/-3525/=4200/=غیر تربیت یافتہ پیش نماز1800/=700/=2500/=35/=3050/=3550/=تربیت یافتہ مدرس900/=500/=1400/=20/=1650/=2000/=غیرتربیت یافتہ مدرس600/=275/=875/=15/=1150/=1325/=مکتب اسکول(چھ گھنٹے تعلیم)مدرسینابتدائی تنخواہراحت الائونسکل تنخواہسالانہ ترقیانتہائی تنخواہانتہائی تنخواہ مع راحت الائونستربیت یافتہ پیشنماز2850/=1000/=3850/=45/=4525/=5200/=غیر تربیت یافتہ پیشنماز2500/=700/=3200/=40/=3900/=4400/=تربیت یافتہ مدرس1250/=500/=1750/=25/=2150/=2500/=غیر تربیت یافتہ مدرس850/=275/=1125/=20/=1550/=1725/=
۸) قیام وطعام: غیرمقامی مدرسین کے قیام وطعام کے انتظام کی ذمہ داری مقامی انتظامیہ کی ہوگی۔۹) کرایہ آمدورفت: غیر مقامی مدرسین کو سالانہ کرایہ آمد ورفت دیا جائے گا جسکی تفصیل اس طرح ہوگی کہ تقرر یا تبادلہ کے بعد پہلا کرایہ مکتب میں پہنچنے پر مکتب ادا کرے گا اور تعلیمی سال پورا ہونے کے بعد بشرطیکہ مدت ملازمت کم از کم ۶ ماہ ہو چکی ہو تو وطن جاتے وقت ایک طرف کا اور واپس آنے پر دوسری طرف کا کرایہ بھی مکتب دے گا۔ ۱۰) رخصت:  علاوہ تعطیلات جس کا نقشہ آگے دیا جارہا ہے مدرسین کو حسب ذیل قسم کی رخصت ملے گی:  ۱۔ رخصت اتفاقیہ: سال میں چودہ دن کی ہوگی۔ ۲۵ دن کے کام کے بعد ایک دن کی   رخصت ملے گی۔ لیکن ایک ساتھ دس دن سے زیادہ رخصت نہ دی جائے گی۔ البتہ منتظم کسی مخصوص ضرورت کی بنا پر ۲۵ دن سے پہلے بھی تین دن تک رخصتِ اتفاقیہ دے سکے گا۔سال کا حساب تقرر کے بعد آنے والی جنوری سے کیا جا ئے گا۔   ۲۔ رخصت علالت: ساری مدتِ ملازمت میں مدرس کو ایک سال کی مجموعی رخصت علالت مل سکے گی ایک سال میں صرف ایک ماہ کی رخصت مل سکے گی۔ بشرطیکہ مدرس کم از کم ۶ ماہ کام کر چکا ہو ۔ رخصت علالت کے لئے طبّی تصدیق درخواست رخصت کے ساتھ منسلک ہونا ضروری ہوگا۔۳۔ نصف تنخواہ: اہم ضرورت کے لئے منتظم کی سفارش پر سال میں ایک ماہ کی رخصت نصف تنخواہ پر ملے گی، بشرطیکہ ایک سال کام کر چکا ہو۔ ۴ ۔ بلا تنخواہ: مدرس کو ایک سال مدت ملازمت ہو جانے کے بعد ایک ماہ کی بلا تنخواہ رخصت مل سکے گی۔ مخصوص حالات میں اس رخصت میں ادارہ توسیع کر سکے گا۔۵۔  رخصت کی منظوری:رخصت اتفاقیہ منتظم منظور کرے گا۔ مگر چند مدرسین کی موجودگی میں مدرسین کی درخواستِ رخصت پر افسر مدرس کی سفارش ضروری ہوگی۔باقی رخصتوں کی منظوری کے لئے منتظم اپنی سفارش کے ساتھ درخواستِ رخصت ادارے کے پاس بھیج دے گا۔ رخصت کے لئے اقدام بر وقت ہونا چاہئے، رخصت نصف تنخواہ اور بلا تنخواہ کا پہلے سے منظور کرانا ضروری ہوگا۔ لیکن منتظم کا فرض ہوگا کہ اپنی سفارش کے ساتھ اس متبادل مدرس کے نام سے بھی مطلع کرے جو زمانۂ رخصت میں فرائضِ تدریس انجام دے گا ۔ کیونکہ ہر حال میں مکتب بند نہ ہونا چاہئے۔ اگر متبادل مدرس کا انتظام نہ ہوگا تواس مدّت کی امداد نہیں دی جائے گی جس مدت میں مکتب بند رہے گا۔                                          ۶۔ جن مکاتب میں ایک سے زیادہ مدرسین ہوں افسر مدرس کے رخصت لینے کی صورت میں مدرس دوم تمام تعلیمی امور کا ذمہ دار ہوگا۔ اسی طرح کسی دوسرے مدرس کی رخصت کی صورت میں افسرِ مدرس کی ذمہ داری ہوگی کہ رخصت لینے والے مدرس سے متعلق درجات کی تعلیم کا انتظام کرے۔ ۱۱) تعطیل کے قبل و بعد کی حاضری:  تعطیل محرّم اور تعطیل کلاں کے قبل اور بعد مدرس کی حاضری ضروری ہوگی۔ بصورت دیگر تعطیل کا فائدہ حاصل نہ ہوگا (یعنی دونوں طرف حاضری نہ ہوئی یا صرف ایک طرف ہوئی تو تعطیل کی تنخواہ نہ ملے گی)۔ اگر دوتعطیلوں کے درمیان رخصت لے تو تعطیل کا فائدہ حاصل ہوگا۔ مثلاً جمعہ کے بعد ہفتہ کو رخصت لے اور اتوار کو عید ہو تو ایک دن کی رخصت شمار ہوگی۔رخصت بیماری اور اتفاقیہ رخصت کے علاوہ دو قسم کی رخصتیں ایک ساتھ نہ دی جائیں گی۔تعطیل کلاں اور تعطیل محرّم کے قبل و بعد رخصت منظور نہ ہوگی۔ اگر مکتب دو شفٹوں میں لگتا ہے تو ایک شفٹ کی غیر حاضری نصف یوم کی غیر حاضری شمار ہوگی۔۱۲) تربیت  : ہر مدرس کے لئے تربیت حاصل کرنا لازمی ہوگا۔ تربیت کے لئے آنے والے مدرس کی جگہ پر بدل مدرس کی تقرر کی صورت میں ادارہ اس کی تنخواہ کا۳/۱ مزید امداد دے گا اور دونوں مدرسین کی تنخواہ مکتب کو دینا ہوگی۔ تربیت میں شریک نہ ہونے والے مدرس کو راحت الائونس/خصوصی الائونس ودیگر مراعات نہیں دی جائیں گی۔ مدرسین حضرات کی تربیت کا نصاب درج ذیل ہوگا۔ نصاب تربیت مدرسین (۱) تجوید (۲) دینیات (۳) اردو (۴) طریقۂ تعلیم (۵) تنظیمی امور   تفصیل نصاب و امتحان     ۱۔تلاوت و تجوید( کتب نصاب) (۱) امامیہ قواعدتجوید(۲) امامیہ عربی قاعدہ (اطفال و اوّل)(۳)تلاوت قرآن کریم امتحان: نمبر اصل ۱۰۰۔ تحریری ۵۰۔ زبانی ۵۰ تحریری: مخرج ۱۰۔ اعراب ۱۰۔ قواعد تجوید ۳۰  زبانی: زبانی سورے ۱۰۔ زبانی امتحان ۴۰۔ قواعد تجوید مع تلاوت قرآن مجید۔     ۲۔ دینیات۔ کتبِ نصاب:(۱) امامیہ دینیات از اطفال تا پنجم (۲) امامیہ دینیات برائے بالغان اوّل تا سوم یا آموزش احکام (متوسط) (۳) کاپی سوالات وجوابات امتحان: نمبر اصل ۱۰۰۔ تحریری ۵۰۔ عملی مسائل ۵۰ عملی مسائل کی تفصیل: (۱) طہارت لباس و بدن بآبِ قلیل و کثیر (۲) استبرأ (۳) آداب استنجاء (۴) وضو غسل وتیمّم (۵) جبیرہ (۶) احکام میّت (احتضار، طہارت قبل غسل، غسل ،غسل جبیرہ، تیمّم، حنوط،کفن،تشییع، نماز فرادیٰ وجماعت،آداب تشییع وتدفین(قبر تک لانا،قبر میں اتارنا، قبر میں لٹانا،تلقین،قبر کی گہرائی اور (اونچائی وجوب واستحباب )(۷)نماز ہدیۂ میّت (۸)نماز ہدیۂ والدین (۹) سجدۂ سہواورواجب اجزاء نماز کی قضا (۱۰) نماز احتیاط (۱۱) شکیات نماز (۱۲)  نماز آیات (۱۳) نماز عیدین (۱۴) نماز جمعہ (۱۵) نماز جماعت (عورت،مرد) (۱۶) نماز اجارہ (۱۷) نماز شب (۱۸) منتخب تعقیبات نماز وزیارات (۱۹)خمس (۲۰) زکوٰۃ (۲۱) فطرہ(۲۲) اوزان شرعی (درہم مقدار مہر شرعی وغیرہ) (۲۳) صیغۂ نکاح ومتعہ (۲۴) نذر، قسم، عہد۔    ۳۔ اردو۔ کتب نصاب: (۱) امامیہ قاعدہ اطفال تا ریڈرپنجم (۲) قواعد اردو(۳) کاپی قواعد اردو  (۴) کاپی معانی(۵) کاپی سوالات وجوابات (۶) کاپی خوشخطی        امتحا ن :  نمبر اصل ۱۰۰۔ تحریری ۷۵۔ زبانی ۲۵۔        تحریری  :  قواعد ۲۰۔ املا ۱۵۔ خوش خطی ۱۰۔ مضمون نویسی ۱۰۔   معانی و محاورہ ۲۰۔ روانی ۱۰۔ تلفّظ ۱۵۔ ۴۔ طریقۂ تعلیم۔ کتب نصاب: (۱) امامیہ رہنمائے تعلیم (۲) کاپی سوالات وجوابات         امتحان: نمبر اصل ۱۰۰ ۵۔ تنظیمی امور: قواعد وضوابط برائے مکاتب تنظیم المکاتب۔ امتحان: نمبر اصل ۱۰۰۔ تحریری ۵۰۔ عملی ۵۰تحریری: قواعد وضوابط ۵۰ عملی: نقشہ ماہانہ ۔۱۰اوسط حاضری۔ ۱۰ نقشہ امتحان ۔۱۰رجسٹر داخل خارج۔ ۱۰کیش بُک ۔۱۰
نصاب تربیت برائے پیش نماز (۱) احکام (۲) عقائد    (۳) اخلاقیات  (۴) تاریخ و سیرت (۵) تلاوت و طریقہ تعلیم قرآن

دفعہ نمبر۔۱۰ نصاب تعلیم      مکاتب کے لئے ادارہ کے جاری کردہ نصاب تعلیم کی پابندی لازم ہوگی۔ ادارہ کے نصاب کے علاوہ دنیاوی تعلیم کا نصاب ادارہ کی اجازت سے رائج کیا جاسکتا ہے۔درجہاردودینیاتقرآن مجید
امامیہ اردو قاعدہ اطفال (۱۔۲)امامیہ دینیات امامیہ عربی قاعدہ (اطفال)اطفالتختی لکھنا،گنتی،درجہ اطفالزبانی سورے مندرجہ
امامیہ خوشخطی کی کاپی ۱،۲
امامیہ دینیات درجہ اطفال
امامیہ اردو ریڈر درجہ اول تختی،نقلامامیہ دینیات امامیہ عربی قاعدہ(اول)اول
درجہ اول زبانی سورے مندرجہ

امامیہ دینیات درجہ اول
امامیہ اردو ریڈر امامیہ دینیاتپارہ عم ،زبانی سورےدومدرجہ دوم درجہ دوم مندرجہ دینیات درجہ دوم، مخارج
نقل ،املا،خوشخطی
حروف کے فرق کی زبانی تعلیم  امامیہ اردو ریڈر درجہ سومامامیہ دینیاتپہلے پانچ پارےسوم املا،خوشخطی ،درجہ سوم امامیہ قواعد تجوید سبق ۱۔۲
اردو قواعد سبق ۱۔۲

امامیہ اردو ریڈر درجہ چہارم امامیہ دینیاتقرآن مجید ابتدائی پندرہ پارےچہارمامامیہ اردو قواعدسبق۱ تا۷درجہ چہارمامامیہ قواعد تجوید سبق ۱تا۶
املا ،خوشخطی

امامیہ اردو ریڈردرجہ پنجمامامیہ دینیاتقرآن مجید مکملپنجمامامیہ اردو قواعد مکمل درجہ پنجم امامیہ قواعد تجوید مکمل
املا،خوشخطی،خطوط نویسی

نوٹ: مدرس کو مکتب کی جانب سے اردولغت فراہم کی جائے ۔دفعہ نمبر۔۱۱ نصابِ تعلیم پرائمری اسکول۱۔ سرکاری پرائمری اسکول کا منظور شدہ نصاب۲۔ پرائیوٹ اسکولوں کا نصاب جسکی منظوری دفتر سے لی گئی ہو۔ ۳۔ ہر ماہ نقشۂ تعلیمات بھیجنا ضروری ہے۔  دفعہ نمبر۔۱۲تعلیم  ۱۔ اس طالب علم کا داخلہ لیا جائے گا جس کی عمر کم از کم ۴سال ہو چکی ہو افسر مدرس کی ذمہ داری ہوگی کہ داخلہ کے وقت ہی طالب علم سے متعلق تمام ضروری معلومات رجسٹر داخل خارج پر درج کردے صرف رجسٹر حاضری میں اندراج پر اکتفا نہ کرے بڑی عمر کی لڑکیوں کو مکتب اطفال میں داخلہ نہیں دیا جائے گا ان کے لئے نسواں مکتب قائم کیا جائے گا۔   ۲۔ درجہ بندی:درجہ بندی اس زبان کی لیاقت پر کی جائے۔ جس زبان میں دینیات کی تعلیم دی جائے اور لیاقت کے مطابق درجہ دیا جائے۔    ۳۔ وقت: جن مکاتب میں ادارہ کے نصاب سے زیادہ نصاب کی تعلیم دی جاتی ہو، ان کا وقت ۶ گھنٹے ہوگا ان کے علاوہ تمام مکاتب کا وقت کم ازکم چار گھنٹے اورزیادہ سے زیادہ ۶گھنٹے ہوگاجو دو نشستوں میں حسب ضرورت تقسیم بھی کیا جا سکتا ہے۔ مکاتب کی تعلیم کا وقت منتظم معین کرے گا۔ مکاتب کے وقت کے تعین میں اس بات کا لحاظ ضروری ہوگا کہ دوسرے اسکولوں میں پڑھنے والے طلاب بھی شریکِ مکتب ہو سکیں ۔ جہاں چار گھنٹے سے کم تعلیم ہوگی وہ پارٹ ٹائم مکتب سمجھا جائے گا۔ اس کی امداد ادارہ کی صوابدید پر جاری ہوگی۔۴۔ مکتب میں نظام الاوقات کا آویزاں کرنا ضروری ہوگا اور سال میں جب بھی نظام الاوقات میں تبدیلی ہو تو اس کی اطلاع صدردفتر کو ضروردی جائے۔ ۵۔ آغازو اختتامِ مکتب:مکتب کاآغاز تلاوت اور نظم سے کیا جائے اور اختتام نماز یا مسائل کی عملی تعلیم یا اخلاقی تربیت پر کیا جائے۔ ۶۔ تعلیمی سال:ہر صوبہ کے مکاتب کے سالانہ امتحان کے بعد ایک ماہ کی تعطیلِ کلاں ہوگی تعطیلِ کلاں کے اختتام پر تعلیمی سال شروع ہوگا۔ تعطیلِ کلاں کے وقت میں تبدیلی کے لئے مرکز کی اجازت ضروری ہوگی۔ ۷۔ طریقۂ تعلیم الف۔ حتی الامکان ایک درجہ کے تمام طلاب کو ایک ساتھ سبق دیا جائے۔ب۔ اردو پڑھنے کے ساتھ روزانہ لکھنے کی تعلیم ضرور دی جائے اور لکھنے میں خوشخطی کا خصوصی لحاظ رکھا جائے۔ خوشخطی کی کاپی (مطبوعہ تنظیم المکاتب)کااستعمال ضرور کیا جائے۔ گنتی یاد کرائی جائے اور لکھوائی بھی جائے۔  ج۔  درجہ اطفال کے نصاب کے ساتھ حروف شناسی کا کام تختہ سیاہ سے ضرور لیا جائے۔       د۔   اردو اورعربی قاعدہ وقرآن مجید کی تعلیم میں خصوصی توجہ دی جائے کہ بچہ پہچان کرپڑھے رٹ کر نہیں۔ ہ۔  اردو کی تعلیم میں معانی لکھواکر یاد کرائے جائیں۔ قواعد کی تعلیم دی جائے اور ان کی مشق کرائی جائے۔ و۔  معانی کی کاپی ہر طالب علم کے پاس ہونا ضروری ہے۔نظم کا مطلب بتانے کی مہارت پیدا کرائی جائے، محاوروں سے واقف بنایا جائے۔ ز۔  عربی قاعدہ درجہ اطفال سے شروع کرایا جائے۔ درجہ اطفال ہی سے صحیح تلفظ و اعراب اور صحت مخرج کا عادی بنایا جائے تاکہ کلمہ، زبانی سورہ، عربی قاعدہ اور قرآنِ مجید میں غلطی نہ ہو۔( کلمہ، صلوات،اذان واقامت اور زبانی سورے براہِ راست مدرس یاد کرائیں ) ح۔  اطفال تا دوّم زبانی سورے اور اطفال تا پنجم عملی مسائل کی تعلیم شروع سال سے دی جائے۔ عملی مسائل یعنی وضو، غسل، تیمّم، نماز اور وہ تمام مسائل جن کی عملی تعلیم ہونا چاہئے۔ درجہ دوّم سے ہر دینیات میں جو عملی مسائل درج ہیں امتحان میں ان کے خصوصی نمبر رکھے گئے ہیں ۔ ط۔   ہر طالب علم کے پاس دینیات کی بھی ایک کاپی ہونا چاہئے جس میں دینیات کے سوالات کے جوابات لکھواکر یاد کرائے جائیں۔ دینیات میں مندرج سوالات کے علاوہ مدرس کو حسب ضرورت خود بھی سوالات کا اضافہ کرنا چاہئے۔جواب اس طرح نہ ہوں کہ بچہ صرف رٹ لے سمجھ نہ سکے۔ ی۔  سہ ماہی امتحان تک نصاب کے ایک تہائی حصہ اور ششماہی امتحان تک نصاب کے نصف حصہ کی تعلیم ضروری ہے۔ سالانہ امتحان سے قبل نصاب کا مکمل ہونا ضروری ہے۔   ۸۔ فراہمی سامان: ہر طالب علم کے پاس کتاب، کاپی ،تختی اور دوسری ساری چیزیں فراہم رہنا چاہئیں ۔ منتظم کا فرض ہے کہ مکتب کے فنڈ سے حسب ضرورت قبل از وقت خرید کر رکھے اور طلاب کو بوقت ضرورت دیدے، قیمت بعد میں وصول کرے۔ اس طرح مکتب کو جو مالی نقصان ہو اسے برداشت کرنا چاہئے۔ ۹۔ ضروریاتِ مکتب: منتظم کا فرض ہے کہ فرش ، تختۂ سیاہ، ضروری فرنیچر وغیرہ فراہم رکھے۔ دفعہ نمبر۔۱۳  امتحان        منتظم کی ذمہ داری ہوگی کہ امتحان کے لئے مناسب ماحول فراہم کرے مقامی افراداور مدرسین کو امتحان میں دخل اندازی نہ کرنے دے۔۱۔ سال میں دو بار مرکز کے انتظام میں امتحان ہوگا۔ الف:پہلا امتحان نصف سال پر نصف نصاب کا ہوگا۔ ب:دوسرا امتحان تعلیمی سال کے اختتام پر پورے نصاب کا ہوگا۔ ج: امتحان کا اثر مدرس کے خصوصی الائونس پر پڑے گا۔  د:مکاتب کے امتحانات کا پروگرام مرکز معین کرتا رہے گا۔ ھ: امتحان تعطیل کے دن بھی ہو سکتا ہے۔ ۲۔ غیر اردوزبان طلاب کا امتحان صرف دینیات عربی قاعدہ اور قرآن مجید میں ہوگا۔۳۔ مکتب میں آنے والے تمام طلاب کا درج رجسٹر ہونا ضروری ہے۔اور ان کو امتحانمیں شریک کیا جائے گا۔ ناکامیاب طلاب کا دوبارہ امتحان مدرس کی اطلاع پرآئندہ معائنہ کے موقع پر ہو سکے گا۔لیکن اس کا اثر سالانہ امتحان کے نتیجہ پر نہ پڑے گا۔۴۔ امتحان میں سارے بچوں کو شریک کیا جائے گا لیکن تین ماہ سے کم مدت تعلیم یا پچاس فیصد سے کم حاضری اسی طرح تین سال مسلسل ناکام ہونے والے طالبعلم کو چوتھے سال پر پرائیویٹ امیدوار قرار دیا جائے گا۔ مدرس کی ذمہ داری ہوگی کہ رجسٹر حاضری پر طالبعلم کے نام کے سامنے پرائیویٹ امیدوار ہونے کی تحریری نشاندہی کردے۔اور ہر طالب علم کی ماہانہ میزان حاضری رجسٹر پر لکھتا رہے۔۵۔ امتحان سالانہ کی اطلاع ملنے کے بعد طلاب کے سر پرستوں کو تحریری اطلاع دینا مدرس کی ذمہ داری ہوگی۔۶۔ درجہ اطفال میں قرآن دینیات کے مجموعی نمبر ۵۰ ہوں گے۔۷۔ درجہ اطفال و اول میں ہرجز میں ۳۳ فیصدی نمبر حاصل کرنا ضروری ہو گا ۔۸۔ جو طالب علم درجہ اطفال میں اردواور قرآن مجید میں کامیاب ہوگا اسے درجہ کی ترقی دے دی جائے گی۔لیکن اوّل تا پنجم ہر مضمون میں کامیابی لازمی ہوگی۔۹۔ درجہ دوم تا پنجم۵۰ نمبر میں ۱۷ نمبر پانے والا طالب علم اس مضمون میں کامیاب قرار پائے گا۔۱۰۔ درجہ دوم تا پنجم عملی مسائل اور املا میں ۵۰ فیصدی نمبر حاصل کرنا پاس ہونے کے لئے ضروری ہوگا۔۱۱۔ مجموعی نمبر اصل ۱۵۰ میں ۵۱ نمبر پانے والاسوم، ۶۷ نمبر پانے والا دوم،۹۰ نمبر پانے والا اوّل قرار دیا جائے گا۔ اور ۱۱۳ نمبر پانے والا ممتاز قرار دیا جائے گا۔ درجہ اطفال میں ۳۳ نمبر پانے والا سوم، ۴۵ نمبر پانے والا دوم، ۶۰ نمبر پانے والا اوّل، ۷۵ نمبر پانے والا ممتاز قرار دیا جائے گا۔۱۲۔ امتحان سالانہ میں ممتحن ناکام طلاب کے لئے اگر ضرورت سمجھے تو دو نمبر کا اضافہ اپنے اختیار سے کر سکتا ہے۔ مگر یہ اضافہ صرف ایک مضمون میںہوگا ہر مضمون میں نہ ہوگا۔          ۱۳۔ اطفال تا پنجم ناکام طالب علم کو سہ ماہی امتحان کے موقع پر دوبارہ امتحان دینے کا موقعہ دیا جائے گا، اور بصورت کامیابی درجہ کی ترقی دے دی جائے گی۔ امتحان انسپکٹر لے گا۔۱۴۔ درجہ کی ترقی پانے والے طلاب کا شمارسالانہ امتحان میں ناکام طلاب میں ہوگا۔۱۵۔ کامیاب طالب علم کو درجہ کی تنزلی ہر گز نہ دی جائے گی، ورنہ آئندہ امتحان میں اسے کامیاب ہونے کے باوجود نتیجہ کے فیصد کے لئے ناکام قرار دیا جائے گا ۔

دفعہ نمبر۔ ۱۴تعطیلات
۱۔ تعطیل کلاں امتحان سالانہ کے بعدیا مرکز کی جانب سے اعلان شدہ ایام میں  ۳۰ یوم کی ہوگی۔اس میں تبدیلی مرکز کی اجازت کے بغیر نہ ہو سکے گی۔ ۲۔ امتحان سالانہ کے بعد تعطیل کلاں کے بجائے کسی اور زمانہ میں تعطیل کلاں کرنا ہو تو اس کی منظوری ادارہ سے حاصل کرنا ضروری ہوگا۔ ۳۔ اگر مکتب بند ہوچکا تھا اور امتحان سالانہ سے قبل پھر جاری ہوا ہے اور وہاںکسی جاری مکتب کے مدرس کا تبادلہ کرکے بھیجا گیا ہے اور اس مدرس نے جہاں سے اس کا تبادلہ کیا گیا ہے وہاں تعطیل کلاں نہیں کی تھی تو سالانہ امتحان کے بعد اسے تعطیل کلاں کا حق حاصل ہو گا۔   ۴۔ امتحان سالانہ کے قبل ۳ ماہ یا اس سے کم مدت میں جس مکتب کا الحاق ادارہ سے ہوگا اس کے مدرس کو ۶؍ماہ مدت ملازمت ہو جانے کے بعد ہی تعطیل کلاں کا حق ہوگا۔۵۔ جدید تقرر کے بعد مدرس کم از کم ۶ ماہ مکتب میں تعلیم کے فرائض انجام دینے کے بعد تعطیل کلاں کا حق دار ہوگا بشر طیکہ امتحان سے ۳ ماہ قبل تقرر ہوا ہو۔۶۔ تعطیل کے دن تعلیم دے کراس کے بدلے ایام تعلیم میں تعطیل غیر حاضری شمار ہوگی۔مثلاً جمعہ کو تعلیم دے کر اس کے بدلے اتوار کی تعطیل کی جائے تو اسے غیر حاضر قرار دیا جائے گا۔۷۔ پیش نماز مدرسین کو ماہ رمضان المبارک میں تعطیل کلاں کا حق حاصل ہوگا۔
دفعہ نمبر۔۱۵  خارجہ   ۱۔ درج ذیل صورتوں میں اگر مدرس ضروری سمجھے تو منتظم سے ہم آہنگی اور مرکز کی اجازت کے بعد طالب علم کا نام خارج کیا جا سکتا ہے: الف۔طالب علم کی بیماری نا قابل علاج ہو۔ ب۔مدرس کے تنبیہ کے باوجود گستاخانہ بر تائو پر باقی رہنا۔ ج۔طالب علم مسلسل ایک مہینہ پندرہ دن یا اس سے زیادہ غیر حاضر رہا ہو۔ د۔ امتحان سالانہ میں دو ماہ کی مدت باقی رہ جانے کے بعد کسی طالب علم کا خارجہ نہیں کیا جائے گا۔دفعہ نمبر۔ ۱۶ اخلاقی تربیت۱۔ بچوں میں تعلیم کے ساتھ دینی دلچسپی اور دینی پابندی کا شوق پیدا کرنے کے لئے مختلف تدابیر کی جائیں مثلاً پابندیٔ نماز، حجاب یالباس و بدن وغیرہ کی صفائی پر انعام دئے جائیں۔ مذہبی سوالات و جوابات پر مشتمل انعامی مقابلے کرائے جائیں۔۲۔ خدمت خلق کا جذبہ پیدا کیا جائے اور اسلامی آداب سکھائے جائیں۔ مثلاً سلام، جسم و لباس کی صفائی، ناخن تراشنے کی پابندی وغیرہ۔۳۔ مقدس مقامات مسجد وامامباڑہ وغیرہ کی دیکھ بھال اورصفائی نیزرفاہ عام کے کاموں میں رضا کارانہ خدمات لئے جائیں جس کی ابتدا خود مکتب کی صفائی اور باغبانی سے کی جائے۔۴۔ ایام ولادت و شہادت معصومینؑ کے موقع پر مجلس یا محفل کا انعقاد کیا جائے۔ اور بچوں کو بولنے اور پڑھنے کی مشق کرائی جائے۔ اسی طرح اہم قومی دنوں میں بھی جلسے منعقد کرائے جائیں تا کہ بچوں میں ترقی کرنے اور ملک و ملت کو ترقی دینے کا جذبہ پیدا ہو۔  ’یومِ قیام تنظیم المکاتب‘۔’ یومِ آزادی‘۔یومِ جمہوریہ کو جلسہ و جلوس کا انتظام کیا جائے۔ یومِ وفات بانیٔ تنظیم المکاتب پر یوم معلم منایا جائے اور مجلس ایصالِ ثواب منعقد کی جائے۔ دفعہ نمبر۔۱۷سند  امتحان سالانہ میں جو بچے درجہ پنجم میں کامیاب ہوں افسر مدرس کا فرض ہوگا کہ اس کے متعلق ضروری معلومات کے لئے رجسٹر داخل خارج کو ممتحن کے حوالہ کرے۔تا کہ  بسلسلہ سند حسب ذیل معلومات فراہم ہوسکیں۔ ۱۔ نام طالب علم معہ ولدیت ۲۔ تاریخ پیدائش  ۳۔ نام مکتب ۴۔ درجہ کامیابی امتحان ۵۔ کس مضمون میں امتیازی کامیابی حاصل کی ہے۔دفعہ نمبر۔۱۸  انعام مدرسین و طلاب مکتب اور مکتب۱۔ جو مدرس تربیت میں ممتاز کامیاب ہوگا اس کو ایک ہزار پانچ سو روپیہ انعام (نقد یا کتاب) دیا جائے گا۔۲۔ جو مدرس تربیت میں اول کامیاب ہوگا اس کو سات سو پچاس روپئے انعام( نقد یا کتاب) دیاجائے گا۔۳۔ ہر درجہ میں جو طالب علم ۷۵ فیصد یا اس سے زیادہ نمبر حاصل کرے گا اس کو انعام دیا جائے گا ۔ نیز درجہ کے ممتاز طالب علموں میں جو طالب علم سب سے زیادہ نمبر لائے گا اس کو مزید ایک انعام ملے گا۔۴۔ پورے ملک اور ہر صوبہ زون میں جو طالب علم جس درجہ کے ممتاز طالب علموں میں سب سے زیادہ نمبر لائے گا اس کو انعام دیا جائے گا۔نوٹ: الف صوبۂ یوپی اور جموں کشمیر کو تین حصوں میں اس طرح تقسیم کیا جائے گا۔یوپی(۱) الف : مظفر نگر، سہارنپور، گوتم بدھ نگر، دلّی، بلند شہر، بجنور، مرادآباد،جے پی نگر ،ہری دوار، میرٹھ، ہریانہ، سیتا پور، بریلی، لکھیم پور، ہردوئی، لکھنؤ۔ب: بارہ بنکی، سدّھارتھ نگر، بستی، گونڈہ، بہرائچ، ہمیرپور، باندہ، فتح پور، اورئی، کانپور، رائے بریلی، انائو، فیض آباد، امبیڈکر نگر،سنت کبیر نگر ج؛ اعظم گڑھ، مئو، الہٰ آباد، بنارس، غازی پور، بلیا، مرزا پور، گورکھپور، جونپور، سلطانپور۔ کشمیر(۲) ۱۔ لدّاخ، جموں،پلوامہ، اننت ناگ، ڈوڈہ ،بڈگام اور کولگام۔ ۲۔ سری نگر ،پونچھ اورکرگل ۳۔بارہ مولہ،بانڈی پورہ اور گاندربلدیگر صوبہ جات (۳)۱۔ گجرات اور بنگال (دومضامین )۲۔ مہاراشٹر،جنوبی ہند،راجستھان، ایم پی ،۳۶ گڑھ،جھارکھنڈ،بہار، بنگال اورگجرات (تین مضامین) ب: صوبائی انعام کے سلسلے میں دو گروپ ہوں گے:  ۱۔ تین مضامین میں امتحان دینے والے طلاّب۔  ۲۔ دو مضامین میں امتحان دینے والے طلاّب۔ ایسے صوبوں میں جہاں کے بچوں کی مادری زبان اردو نہ ہو، وہاں یہی صورت حال کل ہند انعام کی بھی ہوگی۔۴۔ جس مدرس کے طالب علم صوبائی اور کل ہند انعام حاصل کریں گے اس مدرس کو بھی انعام دیا جائے گا۔ ۵۔ جس مکتب کا نتیجہ امتحان سا لانہ مجموعی ۹۶ فیصد ہوگا اس مکتب کو فی مدرس ۵۰۰ روپئے الائونس ملے گا جو مکتب کی ملکیت ہو گا اور ضروریاتِ مکتب پر خرچ کیا جائے گا۔
تفصیل انعامات درجہصوبائی انعامطالب علمصوبائی انعاممدرسکل ہندانعامطالب علمکل ہندانعاممدرسپنجم700/=750/=1000/=1500/=چہارم550/=600/=750/=1200/=سوم450/=500/=650/=1000/=دوم350/=450/=550/=900/=اول300/=375/=450/=750/=اطفال250/=300/=350/=600/=نوٹ: الف: اگر کئی طالب علم ایک ساتھ انعام کے مستحق ہوں گے تو سب کو انعام دیا جائے گا ۔ب: ایک مدرس کے دو بچوں کو دو مختلف انعام ملیں گے تو مدرس کو صرف ایک انعام دیا جائے گا۔                   ج: صوبائی وکل ہند انعام درجہ پنجم کو بصورت کتب دیا جائے گا۔دفعہ نمبر۔۱۹  مکاتب نسواں          جس بستی میں غیر تعلیم یافتہ بڑی لڑکیاں ہوں وہاں معلمہ کے ذریعہ نسواں مکتب قائم ہوگا۔ مکاتب نسواں کے لئے وہ تمام قواعد و ضوابط نافذ ہوں گے جو مکاتب ِ اطفال کے لئے ہوں گے۔ مکاتب نسواں میں تعلیم دینے والی معلمہ اورتعلیم حاصل کرنے والی بالغ طالبات کے لئے پردہ کی پابندی لازم ہوگی۔ نسواں مکتب میں بڑے لڑکے داخل نہیں کئے جائیں گے۔ مکاتب نسواں کے قیام کے لئے کم از کم دس بالغ طالبات کا ہونا ضروری ہے۔دفعہ نمبر۔۲۰ تعلیم بالغان ۱۔ تعلیم بالغان کے لئے شبینہ مکاتب ( نائٹ کلاسیز) قائم کئے جائیں گے۔۲۔ قیام مکاتب بالغان کے لئے دس طلاب کی تعداد لازمی ہوگی۔۳۔ تعلیم بالغان کے لئے پیش نماز مدرس یا تربیت یافتہ مدرس کا ہونا ضروری ہوگا۔۴۔ ان مکاتب کی دو قسمیں قرار دی جائیں گی: الف: وہ مکاتب برائے بالغان جن میں قرآن مجید اور دینیات اطفال تا پنجم کی  تعلیم لازم ہوگی جو ہندی یا دوسری زبانوں میں طبع شدہ دینیات کے ذریعہ بھی دی جاسکے گی۔ ب: وہ مکاتب برائے بالغان جن میں زیر تعلیم افراد مکاتب کا نصاب پڑھ چکے ہوں انھیں نصاب تعلیم بالغان پر مشتمل ادارہ کے معین کردہ نصاب کی پابندی کرنا ہوگی۔ دفعہ نمبر۔۲۱  خصوصی الائونس۱۔ نتیجۂ امتحان کی بنیاد پر مدرسین کو خصوصی الا ؤنس دیا جا ئے گا لیکن یہ الاونس نہ مدرس کا حق ہے اور نہ ادارے پر اس کا دینا لا زم ہے ۔ البتہ اگر ادارہ کے مالیات متحمل ہوں گے تو انشاء اللہ ہر سال دیا جائے گا۔ لیکن الائونس کا دیا جانا یا نہ دیا جانا بہر حال ادارہ کی صوابدید پر منحصر رہے گا۔نتیجۂ امتحان کی بنیاد پر خصوصی الائونس کا حقدار ہونے کے باوجود قواعد وضوابط کی خلاف ورزی جیسے امور کے باعث مدرس محروم ہو سکتا ہے۔ ۲۔ اوسط شرکت اور اوسط کامیابی ۷۵ فیصدہو۔۳۔ شریک امتحان طلاب کی تعداد کم ازکم ۱۵ہو۔۴۔ مدرس کے ایام کارکردگی دو سو(۲۰۰) دن ہوں۔شرح خصوصی الائونس اوسط کامیابیتربیت یافتہ مدرسغیر تربیت یافتہ مدرس75% تا85%90/=    ماہانہ50/=     ماہانہ86% تا95%125/=    ؍؍75/=      ؍؍96%تا100%200/=   ؍؍150/=    ؍؍۵۔ خصوصی الائونس صرف اس مدرس کو ملے گا جوالاؤنس کی تقسیم کے وقت ادارہ سے وابستہ ہو،اس نے ہی امتحان دلایا ہو اور سالانہ امتحان کا نتیجہ اسکی محنت کا مظہر ہوگا۔۶۔ خصوصی الائونس اسی مدت کا دیا جائے گا جس مدت کی تنخواہ دی گئی ہے۔ دفعہ نمبر۔۲۲  پراویڈنٹ فنڈ         مدرس کے لئے حسب ذیل قواعد کے مطابق پراویڈنٹ فنڈ کی سہولت فراہم ہوگی: ۱۔ ہر مدرس اپنی تنخواہ کا دس فیصدی حصّہ جمع کرے گا اور اسی کے مساوی رقم ادارہ شامل کرے گا۔پراویڈنٹ فنڈ کی رقم بذریعہ منی آرڈر یا دستی ماہ بماہ آنا لازم ہے ۳ ماہ سے زائد کی قسط قبول نہیں کی جائے گی۔۲۔ اختتام ملازمت پر مندرجہ بالا رقم مدرس کو یا اس کے وارث کو دی جائیگی بشرطیکہ مدرس ۱۰ سال تک مسلسل پراویڈنٹ فنڈ کی قسط جمع کرتا رہا ہو۔مدرس کا فرض ہوگا کہ اپنے دو وارثوں کو یکے بعد دیگرے نامزد کردے ۔اگر مدرس کے ذمہ کوئی مطالبہ تنظیم المکاتب یا مکتب کا باقی ہوگا تو وہ بر وقت ادائیگی وضع کر لیا جائے گا۔مدرس کا فرض ہوگا کہ پراویڈنٹ فنڈ کی رقم کے مطالبہ کے وقت منتظمِ مکتب کی اس سلسلہ میں تصدیق پیش کرے کہ اس کے ذمہ مکتب کا کوئی مطالبہ نہیں ہے۔ہر نزاع میں ادارہ کا فیصلہ ماننا ہوگا۔۳۔ مندرجہ ذیل صورتوں میں صرف مدرس کی جمع کردہ رقم ہی واپس کی جائے گی: الف: پراویڈنٹ فنڈ جمع کرنے کی تاریخ سے دس سال گذرنے سے پہلے ملازمت ترک کر دے۔ ب: کسی سبب بر خاست کیا گیا ہو۔ ج: قرض لے کر معینہ مدت میں ادائیگی نہ ہونے کی صورت میں اس کی مساوی رقم ادارہ نہ دے گا۔۴۔ ایک بار پراویڈنٹ فنڈ ختم کرنے پر دوبارہ نہیں جمع کیا جائے گا۔۵۔ مدرسین کا پراویڈنٹ فنڈ تنظیم المکاتب کے نام بینک میں الگ کھاتے میں جمع رہے گا۔ اس روپیہ پر بینک سے جو منافع حاصل ہوگا اس پر مدرس کا حق نہ ہوگا بلکہ یہ رقم ادارہ کی ملکیت متصور ہوگی۔۶۔ پراویڈنٹ فنڈ سے مدرس کو حسب ذیل قواعد کے مطابق قرض مل سکے گا: الف: مدرس کی جمع کردہ رقم کی نصف مقدار بھر قرض مل سکے گا۔ ب: یہ قرض زیادہ سے زیادہ ۲۴ ماہانہ قسطوں میں واپس کرنا لازم ہوگا۔ ج: بالعموم اس قرض کی آخری قسط کی ادائیگی کے ایک سال بعد ہی دوسرا قرض مل سکے گا۔دفعہ نمبر۔۲۳ یومِ تعلیم دینی تعلیم کی تحریک کو قوی بنانے کے لئے ۱۵ جمادی الاوّل یومِ قیامِ تنظیم المکاتب کو  ’’ یومِ تعلیم‘‘ منایا جائے۔ اس سلسلہ میں مکتب میں حسب ذیل امور کا زیادہ سے زیادہ اہتمام کیا جائے تاکہ پروگرام مؤثر ہو سکے: (۱) آرائش  (۲) دعا خوانی   (۳) جلوس  (۴) جلسہ   (۵) تعلیمی مظاہرہ  (۶)تقسیمِ اسناد    (۷) تقسیمِ انعام (۸) اصلاحی اقدام۱۔ آرائش میں ایسے کتبے اور جھنڈیاںاستعمال کی جائیں جن سے تعلیمی تحریک کو تقویت پہنچے۔ بالخصوص ادارہ کے مطبوعات میں شائع ارشادات معصومین %اوربانیٔ تنظیم المکاتب مولانا سید غلام عسکری طاب ثراہ کے اقوال سے استفادہ کیا جائے۔ ۲۔ یومِ تعلیم کے پروگرام کاآغاز تلاوتِ قرآنِ مجید اور دعا خوانی سے کیا جائے۔ ۳۔ حتیٰ الامکان جلوس نکالا جائے ۔ جب مومنین وطلاب بستی کا گشت کریں تو مناسب نظمیں پڑھی جائیں ۔ دینی جوش پیدا کرنے والے نعرے لگائے جائیں۔کپڑے اور دفتی کے مناسب کتبے اور جھنڈیاں جلوس میں شامل رہیں۔۴۔ کوشش کی جائے کہ زیادہ سے زیادہ حضرات جلسہ میں شرکت کریں۔ مقامی حضرات کو نظم خوانی اور تقریر کی دعوت دی جائے۔ ایک ایک تقریر منتظم اور افسر مدرس کی ضرور ہونا چاہئے چاہے لکھ کر پڑھی جائے۔ منتظم کی تقریر مکتب کی رپوٹ پر ہونا چاہئے۔ ۵۔ اس پروگرام کا سب سے اہم جز تعلیمی مظاہرہ ہے۔ طلاب انفرادی طور پر اور اجتماعی طور پر تلاوت ،ترانہ، نظم، تقریر، مکالمہ عملی مسائل کے ذریعہ تعلیمی مظاہرہ پیش کریں ۔ تعلیمی مظاہرہ درسی کتب نصاب سے منتخب ہر درجہ کے طلاب پیش کریں۔تعلیمی مظاہرہ کا پروگرام مرتب رہے۔ مدرسین تعلیمی مظاہرہ میں انواع و اقسام کے پروگرام پیش کریںاور بچوں کو مشاق بنائیں۔ جو بچے سب سے ممتاز مظاہرہ پیش کریں اس کی نقل دفتر کو بھیج دی جائے۔ قریبی مکاتب کے طلاب و مدرسین ایک دوسرے کے یہاں شرکت کریں۔ ۶۔ اس موقعہ پر جو طلاب اسناد و انعام کے مستحق ہوں ان کو سند یں اور انعام دیا جائے اور تمام بچوں میں شیرینی وغیرہ تقسیم کی جائے۔ ۷۔ اس موقع پر مکتب کی ترقی و استحکام کے لئے کوئی کام ضرور کیا جائے، مثلاً عمارت کیلئے زمین کی فراہمی اور فکس ڈپازٹ کرنا۔دفعہ نمبر۔۲۴ تعلیمی کانفرنس   ادارہ تعلیم دین کے فروغ اور تحریک دینداری کی تقویت کیلئے حسب موقع ضلعی، علاقائی، صوبائی اور کل ہند دینی تعلیمی کانفرنس منعقد کرتا ہے۔ طلاب کی شرکت کا مقصد تعلیمی مظاہرہ ہوتا ہے۔ اس سلسلہ میں مندرجہ ذیل امور کو پیش نظر رکھنا مدرسین و منتظمین کرام کی ذمہ داری ہے: ۱۔ تعلیمی مظاہرہ کا نصاب وہی ہوگا جو دفعہ ۲۳ یومِ تعلیم کے ضمن ۵میں بیان کیا گیا ہے یاوقتاً فوقتاً مرکز جو نصاب معین کرے۔۲۔ تعلیمی مظاہرہ زبانی ہونا چاہئے۔ ۳۔ نظمیں اور ترانے صرف کتب نصاب سے منتخب کئے جائیں۔۴۔ تعلیمی مظاہرہ میں شرعی حجاب کا لحاظ رکھا جانا ضروری ہے۔دفعہ نمبر۔۲۵یومِ معلم   بانیٔ تنظیم المکاتب مولانا سید غلام عسکری طاب ثراہ کی تاریخ وفات ۱۸؍ شعبان المعظم کو ’یومِ معلم‘ منایا جائے گا۔ اس سلسلہ میں مکتب میں حسب ذیل امور کا انتظام کیا جائے:      مومنین کے اجتماع میں تلاوت قرآن مجید کے بعد خدمات بانیٔ تنظیم اور ادارہ کی کارکردگی سے متعلق تقاریر اور نظمیں پیش کی جائیں اور آخر میں مجلس عزا کی جائے۔ہدایات بسلسلۂ تدوین کاغذات  ۱۔ کیش بک کے ایک صفحہ پر آمدنی، دوسرے صفحہ پر خرچ آمنے سامنے لکھا جائے اور مہینے کے اختتام پر نقشہ ماہانہ کے مطابق گوشوارہ آمد وخرچ بھی کیش بک کے صفحہ پر درج کیا جائے۔ ۲۔ رجسٹر حاضری میں مکمل خانہ پری لازم ہے۔ اوسط حاضری نکالنے کا طریقہ درج کیا جاتا ہے:  درجہ اول میں ۱۰ طلاب ہیں اور مکتب اپریل میں ۲۴ دن کھلا ہے، توکل حاضری  ۱۰x ۲۴ = ۲۴۰ ہو سکتی ہے اور اپریل میں حاضری کی میزان مثلاً ۱۹۲ ہوئی اس کو دو طرح سے لکھ سکتے ہیں: الف: فیصدی میں جس کاطریقہ ہوگا ( ۱۹۲x۱۰۰)= ۸۰ فیصدی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔                                   ۲۴۰                  یعنی ۱۹۲ کو ۱۰۰ سے ضرب دیں تو ۱۹۲۰۰ ہوگا، اس کو کل حاضری۲۴۰سے تقسیم کردیں تو جواب ۸۰ آئے گااس کو اس طرح لکھیں: ۸۰فیصد ب: ۱۹۲ کو ۲۴ سے تقسیم کردیں تو حاصل ۸ آئے گا ۔ کل لڑکے ۱۰ ہیں لہذا ۱۰/۸ حاضری لکھی جائے گی۔۲۴دن مکتب کھلا بچے ۱۰ ہیں اگر باقاعدہ بچے آئیں تو ۲۴۰ کل حاضری ہوگی۔ مگر کچھ بچے غیر حاضر ہوگئے لہٰذا ۱۹۲ میزان ہوئی تو اس کو تعداد ایام تعلیم سے اس طرح تقسیم کریں:            ۸) ۱۹۲ (۲۴       ۳۔ حاضری مدرس کا اوسط بھی اسی طرح نکالا جائے گا۔۴۔ رجسٹر امتحانات میں درجہ یا مکتب کی کامیابی کا اوسط بھی اسی طرح نکالا جائے گا جس طرح اوسط حاضری نکالا گیا ہے۔۵۔ دوسرے تمام رجسٹروں کو معینہ خانوں کے مطابق مرتب کیا جائے گا۔۶۔ رجسٹر قبض الوصول پر تنخواہ کی تفصیل لکھ کر مدرس سے دستخط لینا ضروری ہے ۔۷۔ اسٹاک رجسٹر میں ہر سامان کا صفحہ الگ ہوگا۔ ایک صفحہ پر کئی طرح کے سامان نہیں لکھے جائیں گے۔مثلاً رجسٹر،رسیدبک، کتابیں، ٹاٹ کو الگ الگ صفحات پر لکھا جائے۔ اور تمام کرسیاں ایک صفحہ پر لکھی جائیں گی۔ مثلاً دینیات اطفال کا ایک صفحہ، دینیات اوّل کا دوسرا صفحہ، ریڈر اوّل کا الگ صفحہ، ریڈر دوم کا الگ صفحہ ہوگا۔۸۔ نقشہ ماہانہ مالیات کیش بک کے اندراجات کے مطابق پرُ کیا جائے اور ہر ماہ مرکز کو روانہ کرنے کے ساتھ اس کی نقل مکتب میں فائل کی جائے۔۹۔ مرکزی امداد ملنے پر مکتب کی رسیدبک سے رسید روانہ کی جائے گی۔ـــــــــــــــــــــــــــlll

Post a comment