صفر المظفر ؍۸

وفات حضرت سلمان محمدی (فارسی ) رضوا ن اللہ تعالیٰ علیہ ۳۵ھ
جناب سلمان فارسی ؓرسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے جلیل القدر صحابی اور امیرالمومنین علیہ السلام کے حامی تھے۔

 

سلمان فارسی پیغمبر اکرمؐ کے مشہور صحابی اور امام علیؑ کے مددگاروں میں سے تھے۔

بعض روایات کے مطابق آپ ایک ایرانی کسان کے بیٹے اور آپ کا نام روزبہ تھا۔ بچپن میں آپ کے والدین کا مذہب زرتشت تھا۔ نوجوانی کے عالم میں آپ نے مسیحیت قبول کیا۔ شام کی جانب سفر کے دوران مسیحی علماء کی شاگردی اختیار کی۔ جب مسیحیوں کی زبانی حجاز میں ایک پیغمبر کے مبعوث ہونے کی پیشن گوئی سنی تو وہاں کا سفر کیا لیکن بنی کلب کے ہاتھوں اسیر ہو کر غلام کی حیثیت سے بنی قریظہ کے ایک شخص کے ہاتھوں فروخت ہوئے۔ اپنے مالک کے ساتھ مدینہ آئے۔ وہاں پیغمبر اکرمؐ کی زیارت نصیب ہوئی تو ان پر ایمان لے آئے۔ پیغمبر اکرمؐ نے انہیں ان کے مالک سے خرید کر آزاد کیا اور سلمان نام رکھا۔

سلمان پیغمبر اکرمؐ کی حیات میں آپ کے بہترین صحابی اور آپؐ کے چاہنے والوں میں سے تھے یہاں تک کہ رسول خداؐ نے آپ کے بارے میں فرمایا: سلمان ہم اہل بیت میں سے ہے۔ آپ نے پیغمبر اکرم کے ساتھ تمام جنگوں میں شرکت کی اور جنگ خندق کے موقع پر مدینہ کی حفاظت کی خاطر اس کے اردگرد خندق کھودنے کا مشورہ بھی سلمان ہی نے دیا تھا جو مشرکین کی شکست کا موجب بنا۔ رسول خداؐ کی رحلت کے بعد آپ کا شمار حضرت علیؑ کے قریبی ساتھیوں میں ہوتا تھا۔ سقیفہ کے واقعے کا مخالف تھا لیکن ابوبکر کے خلیفہ منتخب ہونے پھر اس کے بعد عمر کا خلافت پر آنے کے بعد ان کے ساتھ ہمکاری کرتا تھے۔ عمر کی خلافت کے دوران سلمان مدائن کے گورنر منصوب ہوئے لیکن اس کے باوجود ٹوکریاں بناتے تھے اور اپنے ہاتھ کی کمائی کھاتے تھے۔ سلمان فارسی نے ایک لمبی عمر کے بعد سنہ 36 ہجری میں وفات پائی۔ ان کی وفات مدائن میں ہوئی اور وئیں پر دفن کئے گئے آپ کا مقبرہ سلمان پاک کے نام سے مشہور ہے۔

 

وفات مرجع عالی قدر استاد الفقہاء آیۃ اللہ العظمیٰ سید ابوالقاسم خوئی رحمۃ اللہ علیہ ۱۴۱۳ھ

سید ابو القاسم موسوی خوئی (1899۔1992 ء)، شیعہ مرجع تقلید، ماہر علم رجال، 23 جلدی کتاب معجم رجال الحدیث اور البیان فی تفسیر القرآن کے مصنف تھے۔ میرزا نائینی و محقق اصفہانی فقہ و اصول فقہ میں آپ کے برجستہ ترین اساتید میں سے تھے۔ آپ کی مرجعیت کا باقاعدہ آغاز آیت اللہ بروجردی کی رحلت کے بعد ہوا اور آیت اللہ سید محسن الحکیم کی رحلت کے بعد آپ خاص طور پر عراق میں مرجع کے طور پر پہچانے جانے لگے۔ 70 سال کی تدریس کے دوران آپ نے فقہ کے درس خارج کا ایک، اصول فقہ کے چھ اور تفسیر کا ایک مختصر دورہ تدریس کیا۔ محمد اسحاق فیاض، سید محمد باقر صدر، مرزا جواد تبریزی، سید علی سیستانی، حسین وحید خراسانی، سید موسی صدر اور سید عبد الکریم موسوی اردبیلی جیسے علماء آپ کے شاگردوں میں سے ہیں۔

فقہ و اصول فقہ میں آپ منفرد اور مشہور شیعہ فقہاء کی آرا سے متفاوت نظریات کے حامل رہے یہاں تک کہ بعض نے ان کے متفاوت مسائل کی تعداد 300 سے بھی زیادہ ذکر کی ہے۔ فروع دین مین کافروں کا مکلف نہ ہونا، قمری مہینوں کی افق کے لحاظ سے ابتدا کا نہ ہونا اور شہرت فتوائی و اجماع جیسے مسائل میں آپ مشہور کے مخالف نظریات کے حامل تھے۔ اپنی مرجعیت کے دوران آپ نے دین کی تبلیغ، ضرورت مندوں اور محتاجوں کی امداد کے پیش نظر ایران، عراق، ملیشیا، انگلستان، امریکا اور ہند و پاک سمیت دنیا کے مختلف ملکوں میں لائبریریوں، مدارس، مساجد، امام باگاہوں اور ہسپتالوں کی تعمیر جیسے مذہبی اور فلاحی امور انجام دیئے ہیں۔

1960 ء کی دہائی میں آپ نے ایران کی پہلوی حکومت کے خلاف اپنے موقف کے اظہار میں بیانات صادر کئے تھے۔ جن میں 1963 ء میں مدرسہ فیضیہ کے واقعہ کی مذمت شامل ہے۔ 1979 ء میں انقلاب اسلامی ایران کی کامیابی کے بعد، شاہ مخلوع ایران محمد رضا پہلوی کی بیوی فرح دیبا کے ساتھ ملاقات سے پیدا ہونے والے شکوک و شبہات کا ازالہ مختلف موارد منجملہ اسلامی نظام کیلئے منعقدہ ریفرینڈم اور ایران عراق جنگ میں آپ نے کھل کر انقلاب کی حمایت کرکے کیا۔ عراقی شیعوں کی انتفاضہ شعبانیہ عراق نامی تحریک اور شیعہ علاقوں میں انتظامی امور کی انجام دہی کیلئے شیعہ شورا کی تشکیل کے مطالبے کی حمایت کی وجہ سے عراق میں صدام حسین کی بر سر اقتدار بعثی حکومت نے آپ کی کڑی نگرانی شروع کی اور عمر کے آخر تک اپنے گھر میں نظر بند رہے۔