بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
مولانا سید صفی حیدر صاحب قبلہ
ایک تعارف
عصر غیبت میں دینداری اور امت کی ہدایت کے علمبردار ، مخلص اور با عمل علماء رہے ہیں، دورِ غیبت میں ایتام آل محمدؑ کی کفالت اور ان کی دنیوی و اخروی سعادت کی اہم ذمہ داری علمائے حقہ کے کاندھوں پر رہی ہے۔
وطن عزیز ہندوستان میں اگرتشیع کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو ہمارے ملک میں حضرت امیرالمومنین امام علی علیہ السلام کی ظاہری حکومت کے دور میں مذہب حقہ کا چراغ روشن ہوگیا تھا۔اس کے بعد بزرگ علماء و فقہاء نے اپنے خون جگر سے اس چراغ کو آفتاب بنایا۔ شاہان اودھ اور دیگر تمام شیعی حکومت کے دور میں علماء کا عملی دخل رہا جس کے نتیجہ میں اہلبیت علیہم السلام سے لوگ آشنا ہوئے اورکثرت سے مذہب اہلبیت علیہم السلام قبول کیا۔
یہ مبالغہ نہیں بلکہ حقیقت ہے جو آج امریکہ، یورپ اور افریقہ وغیرہ میں مذہب حقہ کے آثار دکھائی دے رہے ہیں۔یہ علماء بر صغیر کی دین ہے۔ ان کی زحمات اور جانفشانیوں کا ہی ثمرہ ہے کہ وہاں جو پہلے چرچ تھے آج وہ مسجداور امام بارگاہ ہیں۔
اسی طرح ہمارے حوزہ علمیہ کی تاریخ دو سو برس سے زیادہ پرانی ہے ۔ اگرچہ آج دشمنوں کی مسلسل سازشوں اور دوستوں کی نادانی کے سبب وہ چمک نہیں رہی، لیکن آج اس تنزلی کے دور میں بھی ہمارے مخلص اور با عمل علماء اپنے علم وحکمت،شعور و بصیرت اور تدبر سے تمام تر سیاسی، اقتصادی، معاشی مشکلات کے باوجود مصروف خدمت ہیں۔
دور حاضرمیں انہیں مخلص اور باعمل علماء میںسے ایک حجۃ الاسلام والمسلمین جناب مولانا سید صفی حیدر صاحب قبلہ سکریٹری تنظیم المکاتب لکھنو ہیں۔ آپ ۲؍ ذی الحجہ ۱۳۷۶؁ھ کوضلع بارہ بنکی (سید واڑہ) کے ایک زمینداراوردیندار خاندان میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد جناب سید حسن جعفر زیدی صاحب مرحوم نہایت مہذب، شریف النفس اور دوسرے کے کام آنے والے انسان تھے۔ اور والدئہ گرامی سربراہ تحریک دینداری بانیٔ تنظیم المکاتب مولانا سید غلام عسکری طاب ثراہ کی ہمشیرہ اور جناب سید محمد نقی صاحب انسپکٹر آف اسکول کی بیٹی تھیں جن کا تدین و تقویٰ آج تک یاد کیا جاتا ہے۔
مزاج میں دینداری اور طبیعت میں تقویٰ و اخلاص کے سبب بھائی بہن میں کافی قربت رہی اور اسی قربت کے نتیجہ میں مولانا سید صفی حیدر صاحب قبلہ کو بچپن ہی سے دینی تربیت نصیب ہوئی۔ اطاعت شعاری، پڑھنے کا شوق اور طبیعت میں دینداری محسوس کرتے ہوئےنباض قوم مولانا سید غلام عسکری طاب ثراہ نے مستقبل میں دینی خدمات لینے کی خاطر منتخب کیا۔ پہلے خود آپ کو اردو اور فارسی کی ابتدائی کتب آمدنامہ اور گلزاردبستان وغیرہ پڑھائی اور جب دینی تعلیم کے حصول میں شوق و ذوق ، محنت اور لگن کا مشاہدہ کیا تو چند ماہ پڑھاکر جامعہ ناظمیہ لکھنؤ میںدرجۂ پنجم میں داخل کرا دیا۔
مدرسہ میں شفیق و مہربان اساتذہ کی پدرانہ شفقت و محبت اور گھر میں بانی تنظیمؒ جیسے مخلص و دیندار عالم کی محبت آمیز نصیحتوں نے تربیت میں چارچاند لگا دئیے۔ یہ نکتہ بھی قابل غور ہے کہ اساتذہ کی خصوصی توجہ کا سبب جہاںخطیب اعظم مولانا سید غلام عسکری طاب ثراہ سے قربت تھی وہیں خود آپ کا اخلاق و اخلاص،جذبہ خدمت خلق ، اطاعت شعاری، سادگی اور حصول علم کا شوق اور لگن بھی کارفرما تھی۔ جس کی جیتی جاگتی مثال استاذ الاساتذہ مولانا سید محمدشاکر نقوی طاب ثراہ سے آپ کاعلم ہیئت کے کسی مسئلہ کو تہہ تک سمجھنے کا مطالبہ اور نتیجہ میںاستاد الاساتذہ مولانا سید شاکر نقوی اعلی اللہ مقامہ کا تحقیقی مقالہ ’’اَلظَّفَرَۃ عَلَی الطَّفَرَۃِ‘‘وجود میں آیا۔
جامعہ ناظمیہ میں تعلیم کے دوران یوپی مدرسہ بورڈ اور لکھنؤ یونیورسٹی کے عالم و فاضل وغیرہ کے امتحانات کے ساتھ ساتھ اپنے شوق سے بلا حجت پڑھانے والے قوم پرست اساتذہ ماسٹر آفتاب حسین مرحوم اور شاہ لکچرر شیعہ کالج سے انٹر تک کی انگلش تعلیم حاصل کی۔ جامعہ ناظمیہ کے ممتاز الافاضل کی آخری سند حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ شیعہ کالج لکھنؤ سے انگلش کے ساتھ گریجویشن کیا جس میں شیعہ کالج میں پہلی پوزیشن اور لکھنو یونیورسٹی میں نمایاں پوزیشن حاصل ہوئی۔
جامعہ ناظمیہ میں بھی چھٹے درجہ سے آخری درجات تک ہمیشہ مدرسہ میں پہلی پوزیشن حاصل کی اور برسوں کے بعد ایسے طالب علم ہونے کا شرف حاصل کیا جس نے درجۂ قابل میں ممتاز نمبروں سے کامیابی حاصل کی ۔ممتاز الافاضل ادا کرنے کے ساتھ ہی اعلیٰ دینی تعلیم کے حصول کے لئے نجف اشرف جانے کی کوشش بھی لگائی اور شہید آیۃاللہ باقر الصدر رحمۃاللہ علیہ سے کسب فیض کے لئے ان کے ہونہار شاگرد علامہ سید ذیشان حیدر جوادی طاب ثراہ کا ان کے نام خط لے کرعراق جانا چاہتے تھے۔ لیکن افسوس کہ وہ شہید ہو گئے تو ادیب الہندی مرحوم کے توسط ایران کی راہ لی اور ان میں سے بعض تو علامہ جوادی طاب ثراہ کے ہی ذریعہ ایران میں شہید صدر رحمۃ اللہ علیہ کے شاگردوں سے شرف تلمذ حاصل کیا۔
حوزہ علمیہ کی روایتی دروس فقہ و اصول، فلسفہ، تفسیر اور اخلاق وغیرہ کے علاوہ ــفلسفتنا ،اقتصادنا، مجموعہ اصول فقہ شہید صدر ؒ اور فقہی دروس اساتذہ سے پڑھے۔
یہ نکتہ قابل غور ہے کہ آپ کو ہندوستان میں اساتذہ سے پڑھی ہوئی کتب کو حوزۂ علمیہ قم میں دہرانے کی ضرورت نہیں پڑی بلکہ ان میں سے بعض کی تدریسیں کی، کریمۂ اہلبیت حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا کے جوار میں کمال انہماک سے مدارج علمیہ کا سفر طے کرتےہوے رسائل و مکاسب و کفایہ میں امتیازی نمبروں سے کامیابی حاصل کی ، فقہ و اصول میں حوزۂ علمیہ قم مقدس کے ذی استعداد اور قابل قدر اساتذہ سے کسب فیض فرمایا جن میں آیات عظام استاد منتظری محقق، آقائے ستودہ، استاد سید علی محقق میر داماداور استاد شیخ اعتمادی رضوان اللہ تعالی علیہم جیسے نامور اساتذہ تھے۔
ان معروف اساتذہ کے علاوہ آیۃاللہ شاہرودی رحمۃاللہ علیہ کے مدرسہ میں جسے انھوں نے اہل عراق کے لئے عربی میڈیم تدریس کے لئے قائم کیا تھا اس میں بھی تعلیم کاشرف حاصل کیا ۔
آپ نےحضرت آیۃ اللہ مشکینی رحمۃ اللہ علیہ کے درس اخلاق اور آیۃ اللہ مصباح یزدی دام ظلہ کے دروس فلسفہ میں شرکت کی اور اسی طرح آیۃ اللہ العظمیٰ شہید سید باقر الصدر رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کے نامور شاگردان آقائے سید باقر مہری، آقائے سید صدرالدین قبانچی، آقائے سید محسن امین سے ، مرجع عالی قدر آیۃ اللہ العظمیٰ آقائے سید محمود ہاشمی شاہرودی رحمۃاللہ علیہ(سابق چیف جسٹس و سابق صدر ایکسپیڈیسیسیڈسکرنمنٹ کونسل اسلامی جمہوریہ ایران) کے زیرسرپرستی شرف تلمذ حاصل کیا۔مراجع کےاس دور کے اساتذہ میں آیۃ اللہ شیخ حسن جواہری جن کا شمار آج نجف اشرف کے درس خارج کے نمایاں اساتذہ اورصاحبان تالیف میں ہوتا ہے۔ اور حجۃ الاسلام سید صدر الدین قبانچی حفظ اللہ عراق کی معروف ترین دینی و سیاسی شخصیت اور نجف اشرف کے امام جمعہ ہیں۔
درس و بحث کے ساتھ ساتھ تدریسی سلسلہ بھی شروع کیا نیز ترجمہ و تالیف کے میدان میں بھی قدم رکھا، جن میں متعدد توضیح المسائل کے ترجمہ میں آپ نے کار نمایاں انجام دیا۔سطوح کی تشکیل کے بعد قم میں آپ کے ہم عصر علماء کا بیان ہے کہ اگر آپ کا سلسلہ تعلیم جاری رہتا تو یقیناً فقاہت و اجتہاد کی منزل ضرور نصیب ہوتی لیکن بانیٔ تنظیم المکاتب خطیب اعظم مولانا سید غلام عسکری طاب ثراہ کے انتقال کے بعد ادارۂ تنظیم المکاتب کی خدمت کے سلسلہ میں بزرگوں کے اصرار پر آپ ہندوستان واپس آگئے۔
سکریٹری جیسی اہم ذمہ داری کے باوجود آپ نے کافی عرصہ جامعہ امامیہ میں تدریس فرمائی۔ آپ کے شاگردوں کی ایک طویل فہرست ہے ان میں سے اکثر دنیا کے مختلف گوش و کنارمیں تبلیغ و تدریس، ترجمہ و تالیف میں مصروف ہیں، کثرت سفر اور دیگر اداری مصروفیات کے سبب تدریسی سلسلہ منقطع ہو گیا، لیکن آج بھی تمام تر مصروفیات کے باوجود دفتر میں موجودگی کی صورت میں ہر مناسبت پر اور خاص کر ہفتہ میں ایک دن جامعۂ امامیہ اور جامعہ الزہراء تنظیم المکاتب میں درس اخلاق دیتے ہیں جو طلاب و طالبات کے لئے بے حد مفید ہیں۔مراحل اجتہاد طے کرنے کےلئے مختلف معروف اساتذہ مثلاً آیۃ اللہ العظمیٰ افاضل لنکرامی، ناصر مکارم شیرازی اور سید محمد شاہرودی فقہ واصول کے درس خاص میں شرکت کی تاکہ اپنے لئے استاد کا تعین کر سکیں۔
حجۃالاسلام والمسلمین مولانا سید صفی حیدر زیدی صاحب قبلہ کے قلمی آثار میںمتعدد مقالات و مضامین دیکھنے کو ملتے ہیں  جو ماہنامۂ تنظیم المکاتب کے علاوہ دوسرے جریدوں میںبھی طبع ہوئے ہیں۔ اسی طرح آپ کے تراجم کی بھی ایک فہرست ہے لیکن آپ کی تقاریر زیادہ معروف ہیں۔
اسی طرح اگرآپ کی خدمات کا ایک سرسری جائزہ لیا جائے تو ۱۹۸۵؁سے ۱۹۸۷؁تک آپ ادارۂ تنظیم المکاتب کے جوائنٹ سکریٹری رہے اور ۱۹۸۷؁سے آج تک بحیثیت سکریٹری خدمت انجام دے رہے ہیں اور یہ نکتہ بھی قابل غور ہے کہ ۱۹۸۷؁ سے ۲۰۰۰؁ تک علامہ جوادی طاب ثراہ کے زیر سرپرستی اور ۲۰۰۰؁میں علامہ سید ذیشان حیدر جوادی طاب ثراہ کے انتقال کے بعد سے اس کشتیٔ تنظیم کے ناخدا آپ ہی ہیں۔ اس دوران اگر ہم ادارہ تنظیم المکاتب کی خدمات کو اجمالی طور سے بیان کریں تو مندرجہ ذیل ہیں:
۱: مکاتب امامیہ کی تعدادمیں نمایاں اضافہ ہوا: ۱۹۸۵؁ء میں وفات بانیٔ تنظیم کے وقت مکتب کی تعداد ۵۱۴ تھی ۔ ۱۹۸۷؁ میں(سکریٹری شپ کے آغاز کا سال) ۵۶۰ مکاتب تھے جن میں ۸۶۷ مدرسین اور ۲۳۲۰۰ طلاب و طالبات تھے لیکن آج (۲۰۲۰؁ء میں) ۱۰۶۷ مکاتب مصروف خدمت ہیں اور ان میں ۱۷۸۹ مدرسین اور ۴۷۱۳۹ طلاب و طالبات درس و تدریس میں مشغول ہیں۔
۲:پندرہ روزہ اردو تنظیم المکاتب اخبار نے نہ صرف اردو بلکہ ہندی میں بھی ماہانہ میگزین کی صورت اختیار کی اور ہزاروں کی تعداد میں نشر ہو رہی ہیں۔ نیز شعبۂ نشر و اشاعت سے مکاتب امامیہ کے نصابی کتب کی طباعت کے علاوہ دیگر دینی و مذہبی کتب نشر ہو رہی ہیں بالخصوص’’ تنظیم المکاتب کلینڈر اور ڈائری‘‘ کا ڈزائن ہندوستان میں نمونہ تھا ورنہ اس سے پہلے صرف یتیم خانہ کا کلینڈر ہی تھا۔
۳: مکاتب امامیہ کے مدرسین و معلمات کا تربیتی کیمپ جدید وسائل کے ساتھ ریفریشر کورس۔
۴: جامعہ امامیہ تنظیم المکاتب کے تعلیمی نظام میں ترقی جیسے حفظ قرآن، کمپیوٹر، انٹرنیٹ اور انگریزی مکالمہ وغیرہ کی تعلیم۔
۵:جامعۃ الزہرا تنظیم المکاتب بانیٔ تنظیم کا خواب تھا جسے آپ کی وفات کے بعد علامہ سید ذیشان حیدر جوادی طاب ثراہ کی صدارت اور مولانا سید صفی حیدر صاحب قبلہ کی سکریٹری شپ کے دوران عملی جامہ پہنایا گیا۔ الحمدللہ ۱۹۹۵؁ءسے یہ شعبہ مصروف خدمت ہے اور سیکڑوں بچیاں زیورِ تعلیم سے آراستہ ہو کر مصروف خدمت ہیں۔
۶: حفظان صحت: بانیٔ تنظیم نے نادار فنڈ کے نام سے ضرورت مندوں کی مدد کاسلسلہ قائم کیاجسے مختلف شعبوںکی شکل دیکر آج ہزاروں مومنین و مومنات فیضیاب ہو چکے اور ہو رہے ہیں۔
۷: امدادنادارات : آج اسی کے ذریعہ ناداروں کی امداد کی جا رہی ہے۔
۸: اسکالرشپ: ماہانہ اخراجات ناداران خاص کرکے مرحوم مدرسین کے عوائل کے لئے۔
۹: امامیہ ای شاپ کا قیام: زندگی کی ہر مذہبی ضرورت ولادت سے وفات تک کا سامان یہاں دستیاب ہے۔
۱۰: ای مکتب کا قیام: مولانا سید صفی حیدر صاحب قبلہ نے جو بچّے اسکولی مصروفیات اور دیگر وجوہات کے سبب مکتب نہیں جا سکتے ان کوان کے پسندیدہ وقت پر آن لائن دینی تعلیم دینے کی خاطر ای مکتب کا آغاز کیا۔
۱۱: بانیٔ تنظیم المکاتب مولانا سید غلام عسکری طاب ثراہ نے جب ادارہ کی بنیاد رکھی تو اس وقت ادارہ کا دفتر آپ کے وطن بجنور ضلع لکھنؤ میں تھا، جس سے کافی دقتیں آتی تھیں۔ آپ نے لکھنؤ کے جوہری محلہ میں کرایہ کا مکان لیا اور کچھ مدت وہاں ادارہ کا دفتر رہا ۔پھر سوداگر کے امام باڑے میں منتقل ہوکر دوبارہ مسجد مصطفوی جوہری محلہ میں منتقل ہوا۔ پھربانیٔ تنظیم نے ۱۹۸۲؁ء میںقدیم وسیع و حریض عمارت خرید لی جس کا ایک بڑا حصہ کھڈر تھا۔ جس میں دفتر کے علاوہ جامعہ امامیہ بھی قائم ہوا، لیکن ادارہ کی بڑھتی سرگرمیوں اور جامعۂ امامیہ میں طلاب کی خاطر خواہ تعداد میں اضافہ کے سبب یہ عمارت بھی تنگ ہو گئی تھی لہٰذا ۱۹۹۰؁ میںجامعۃ الزہراء کے لئے بڑا باغ مفتی گنج لکھنومیں زمین خرید کر جامعۃالزہرا کی عمارت تعمیر کرائی اسی کے ساتھ گولہ گنج میں ادارہ سے متصل ایک بڑی عمارت (ریڈ گیٹ ہوٹل)، پھر شکلا نواس اورشرما بلڈنگ کی خریداری عمل میں آئی اور یہ دونوں عظیم خدمات علامہ جوادی طاب ثراہ کی سرپرستی میں مولانا سید صفی حیدر صاحب قبلہ نے انجام دی۔
۱۲ : مدارس ابوطالب و خدیجہ علیہماالسلام : مکتب کی طرح نوجوانوں کی دینی تعلیم کے لئے مدارس ابوطالب علیہ السلام اور مدارس خدیجہ الکبریٰ سلام اللہ علیہا کا سلسلہ شروع کیا۔ بانیٔ تنظیم نے تعلیم بالغان کی شکل میں مکتب کے بعد کی تعلیم کا آغاز کیا تھا۔ اسے منظّم شکل دیکر تعلیم بالغان کے سلسلہ کو آگے بڑھایا۔ ۶ سے ۹ تک کے درجات میں زیر تعلیم بچّوں کے لئے نونہالان کے نام سے چار سالہ کورس رائج کیا۔
۱۳: ۱۹۸۷؁ ءمیں ادارہ کا تخمینہ خرچ ۱۹؍ لاکھ ۲۰؍ ہزار روپیہ تھا لیکن خدمات میں خاطر خواہ اضافہ اور مہنگائی بڑھنے کے سبب آج ادارہ کا تخمینہ خرچ ۴؍ کروڑ روپیہ ہے۔
۱۴: امامیہ اسٹڈی سنٹر: اسکولوں میں مصروف بچوں کو دینی تعلیم دینے کے لئے امامیہ اسٹڈی سنٹر کو قائم کیا تا کہ عصری تعلیم میں ہوم ورک اور کچوچنک کرانے کے ساتھ بچوںکو دینی تعلیم بھی دی جا سکے۔
۱۵: بشردوستانہ خدمات مستقل خدمات کے علاوہ: جان لیوا ’’کرونا وائرس‘‘ نے جب ہمارے ملک ہندوستان میں اپنے قدم جمائے تو حکومت نے پورے ملک میں لاک ڈاؤن نافذ کر دیا جس کا شدید منفی اثر متوسط طبقہ کی معیشت پر پڑا قحطی اور بھک مری کی کیفیت سے لوگ دوچار ہوئے تو حجۃالاسلام والمسلمین الحاج مولانا سید صفی حیدر زیدی صاحب قبلہ سکریٹری تنظیم المکاتب نے ـــ ’’علی والو! کوئی بھوکا نہ رہے‘‘ کے نعرہ کے ساتھ بلا تفریق مذہب و ملت ۲۳ مارچ ۲۰۲۰ ؁ءکو بشر دوستانہ خدمات کا آغازکیا اور اس مہم کے تحت پورے ملک میں ہزارووں گھروں تک راشن پہنچایا گیا اور یہ سلسلہ آگے بھی جاری ہے

Video Messages From Our Secretary