حضرت ابوذرؓ اورمحبت امیرالمومنینؑ

ایک دن امیرالمومنین علیہ السلام نے اپنے اصحاب سے فرمایا: میرا دل ابوذر کے لئے روتا ہے خد ا ابوذرؓ پر رحمت نازل فرمائے۔ اصحاب نے پوچھا: کیوں؟
امیرالمومنین علیہ السلام نے فرمایا: جس رات حاکم کے سپاہی ابوذر سے بیعت لینے کے لئے ان کےگھرپہنچے تو اشرفیوں کی چار تھیلیاں ابوذر ؓ کے سامنے پیش کی تا کہ وہ حاکم کی بیعت کر لیں۔ تو ابوذرؓ غضبناک ہو گئے اور فرمایا: تم نے میری دو طرح توہین کی ہے۔
۱۔ تم چاہتے ہو کہ میں علیؑ کا سودا کر لوں گا اور تم مجھے خرید لو گے۔
۲۔ کیا محبت علی ؑ کی قیمت چار تھیلی اشرفیاں ہیں؟
تم چاہتے ہو کہ ان چار تھیلی اشرفی کے عوض میں محبت علی ؑ سے دستبردار ہو جاوں گا۔ اگر پوری دنیا کی دولت بھی پیش کر دی جائے تب بھی میں علیؑ کے سر کے ایک بال کا بھی سودا نہیں کروں گا۔
ابوذرؓ نےسپاہیوں کو گھر سے نکال کر دروازہ بند کر لیا۔
امیرالمومنینؑ نے فرمایا: اس خدا کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں علیؑ کی جان ہے جس رات ابوذرؓ نے حاکم کے سپاہیوں کو گھر سے نکالا اس وقت ابوذرؓ اور ان کے گھر والے تین روز کے فاقہ سے تھے۔