1

عقل وہ ہے جس سے رحمٰن کی بندگی کی جاتی ہے

اَلْعَقْلُ مَاعُبِدَ بِہِ الرَّحْمٰنُ

از تبرکات خطیب اعظم طاب ثراہ

:مولائے کائنات امیرالمومنین علی ابن ابی طالب علیہ الصلوٰۃ والسلام نے یہ بتایا ہے کہ عقل کسے کہتے ہیں۔ آپ نے فرمایا

 اَلْعَقْلُ مَاعُبِدَ بِہِ الرَّحْمٰنُ

عقل وہ ہے جس کے ذریعہ انسان خدا کو مانے، اس کی عبادت کرے۔

جب مولائے کائنات نے عقل کی تعریف کی تو ایک شخص نے سوال کیا : مولا! جو خدا تک پہنچائے اس چیز کا نام عقل ہے تو حاکم شام کے پاس کیا چیز ہے؟ اس لئے کہ حاکم شام خدا کے راستہ سے ہٹانے کا ذریعہ تو بن رہا ہے، خدا تک پہونچانے کا ذریعہ نہیں بن رہا ہے۔ دنیا یہی کہتی ہے کہ بڑا عقلمند، سمجھدار اور ہوشیارہے

آپ نے فرمایا:حاکم شام کے پاس جو عقل کہی جاتی ہے وہ عقل نہیں ہے، بلکہ تِلکَ النَّـکَرَاءُ وَ الشَّیطَنَۃُیہ برائی کی طرف لے جانے والی اور برائی کے لئے راستہ پیدا کرنے والی وہ چالاکی ہے جو شیطان کے راستے پر لے جاتی ہے۔

  ہمیں عقلی اور علمی سطح پر مذہب کو اتنا سمجھانا پڑے گا کہ ہمارے دل و دماغ میں جو غیراسلامی، غیر ایمانی اور غیر مذہبی خیالات پیدا ہوگئے ہیں یاپیدا ہوسکتے ہیں ان کا سدّباب ہوجائے  ویسے ہی جیسے امام زین العابدین علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تعلیم کردہ دعا میں ہے کہ خدا سے پہلے یہ دعا کرو کہ پالنے والے ہمارے دل کو دنیا کی محبت سے خالی کردے اور جب تمہارا دل دنیا کی محبت سے خالی ہوجائے تو پھر یہ دعا کرو کہ پالنے والے ہمارے دل کو نبیؐ اور آل نبی علیہم الصلوٰۃ والسلام کی محبت سے بھردے۔

اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جب تک دنیا کی محبت سے ہمارا دل خالی نہیں ہوگا یہ دل نبیؐ اور آل نبیؐ کی محبت کے لئے جگہ نہیں بناسکے گا۔

اسی طرح جب تک ہمارے بچوں، جوانوں اور ہماری بیٹیوں سے غیراسلامی خیالات کو انھیں بتااور سمجھا کر عقلی دلائل کی روشنی میں نکال نہ دیا جائے جو نوجوان ذہنوں، کچی عقلوں، کچے ذہنوں اور کچی زندگیوں کو کفروالحاد کی طرف لے جاتے ہیں،جب تک یہ صفائی نہیں ہوگی تب تک ان میں نور اسلام نہیں آسکے گا ایمان کی شمع نہیں روشن ہوسکے گی۔

امام علی علیہ السلام کے ارشاد کی روشنی میں  عقل ہر سمجھ، ہر ہوشیاری اور ہر تیزی کا نام  نہیں ہے۔ اگر عقل ہر تیزی، ہوشیاری اور چالاکی کا نام ہے تو چور کے پاس چوری کرنے کی جو سمجھ ہے اگر اسے عقل کہا جائے تو پھر ایمان دار کے پاس کون سی عقل آئی؟! اگر انسان پر ظلم کرنے کے لئے ظالم کے پاس جو سمجھ پائی جاتی ہے اگر ہم اس کو عقل قرار دیں گے تو وہ کون سی عقل ہوگی جو انسان کی مشکلات کو حل کرنے کی کوشش کرے تو ہماری سوسائٹی میں تو ہر سمجھ کو سمجھ کہہ دیا جاتا ہے بلکہ بے عقلی  کو زیادہ عقل کہا جاتا ہے اور سمجھ کو بیوقوفی کہا جاتا ہے۔

 مولائے کائنات نے یہ بتایا ہے کہ عقل فقط اس چیز کا نام ہے جو انسان کو خدا تک پہنچائے، جو انسان کو خدا کے سامنے جھکائے، جو انسان کو خدا کے احکام پر عمل کرنے کا شوق ، جذبہ اور ولولہ دلائے۔ وہ عقل نہیں ہے جو خدا کے راستہ سے ہٹائے۔

  جو حضرت علی علیہ السلام کے دشمن امیر شام  کے پاس تھی وہ عقل نہیں ہے یہ وہ چالاکی ہے جو برائی کے لئے راستے پیدا کرتی ہے اور یہ وہ چالاکی ہے جوشیطان کے راستے پر لے جاتی ہے۔ اس میں شیطان مددگار ہوا کرتا ہے۔

انسانوں میں دو طرح کی سمجھ پائی جاتی ہے: ایک سمجھ وہ ہے جو خدا تک پہنچاتی ہے۔ ایک سمجھ وہ ہے جو شیطان تک پہنچاتی ہے۔

حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیںکہ جو خدا تک پہنچائے وہ عقل ہےاور جو شیطان تک پہنچائے وہ عقل نہیں ہے۔ حضرت علی علیہ السلام نے اپنے شدید ترین دشمن کے لئے فرمایا ہے کہ اس کے پاس جو سمجھ اور چالاکی  پائی جاتی ہے وہ یہ عقل نہیں ہے۔ یہ وہ چالاکی ہے جو بدی کے لئے ہے، جو شیطان کے راستے تک پہنچاتی ہے۔

 اگر ہم اللہ کے راستہ کو چھوڑ کر کسی سمجھ کا استعمال کرتے ہیں تو یہ وہ سمجھ ہے جو امیر شام والی سمجھ ہے۔ اگر ہم وہ سمجھ استعمال کرتے ہیں جو ہمیں خدا تک پہنچاتی ہے تو یہ وہ عقل ہے جو مولائے کائنات نے بیان فرمائی ہے۔

 اب علیؑ والوں کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ انہیں اس عقل کو اپنانا ہے جس کو حضرت علی علیہ السلام عقل بتا رہے ہیں یا اس سمجھ کو اپنانا ہے جسے آپ کے دشمن حاکم شام نے اپنایا ہے؟!

سوسائٹی اتنی طاقتور اور پاور فل چیز ہےکہ اس میں جو آدمی بھی راستے سے ہٹ کر سچی بات بھی کہے اسے بیوقوف کہا جاتا ہے اور اس کے دھارے میں بہتا ہواآدمی کتنی ہی بڑی بے عقلی کیوںنہ کرے وہ عقلمند کہا جاتا ہے۔

اس کی ایک مثال یہ ہے کہ بازار میں دو دوکاندار ہیں، ایک ایماندار ہے، صحیح مال لاتا ہے، صحیح مال بیچتا ہے، پورا تولتا ہے، کوئی دھوکہ بازی نہیں کرتا ہے تو اس کو جو نفع اور پرافٹ مل رہا ہے وہ ذرا کم ہے اس دوکاندار کے مقابلے میں جو مال ملاوٹ والا بھی لاتا ہے، کم تولتا بھی ہے اور دھوکہ بازی کرتا ہے۔

جب دو دوکانداروں میں ایک ایمانداری برت رہا ہے اور دوسرا بے ایمانی کر رہا ہے۔ ایک تیزی کے ساتھ مال بڑھا رہا ہے، ایک آہستہ آہستہ نفع کما رہا ہے، جب سوسائٹی میں باتیں ہوتی ہیںتو کہا جاتا ہے کہ ایک ہی مارکیٹ میں دونوں کی دوکانیں ہیں، دونوں ایک ہی مال بیچتے ہیں، ایک ترقی کیوں کر رہا ہے، ایک کیوں ترقی نہیں کررہا ہے؟!

اب ذرا سوسائٹی کا تبصرہ ملاحظہ کیجئے کہ  کہنے والے نے کہا: آپ کو ایمانداری کی بیماری ہوگئی ہے۔ آپ کو نہ وائف کا خیال ہے، نہ لائف کا۔

 خدا کے لئے ہم یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ جو اس کی ذات ہے وہی اس کی صفت ہے ، ذات و صفت الگ نہیں ہے۔ جناب آدمؑ کے زمانہ میں مرد اور ہوتا تھا بیوی اور ہوتی تھی۔ اب زمانہ کون سا ہے جووائف ہے وہی لائف ہے جو لائف ہے وہی وائف ہے۔ اس سے ہٹ کر اپنی کوئی لائف سوسائٹی میں نہیں پائی جاتی۔

 جناب ان کو ایمانداری کی بیماری ہوگئی ہے، یہ کبھی ترقی نہیں کریں گے اس کو دیکھئے ان کے مقابلے میں اس کی دوکان چھوٹی تھی مگر اس نے کتنی ترقی کر لی ہے!

 ہم نے کہا: اصل میں وہ زمانہ کی سمجھ سے کام لیتا ہے۔

ان کے بارے میں کیا خیال ہے؟ کہا: یہ بیوقوف ہیں، ان کو دوچار سو سال چودہ سو سال پہلے پیدا ہونا چاہئے تھا آج کہاں پیدا ہوگئے؟!جب کسی سوسائٹی میں بے ایمانی کرنے کا رواج ہوجاتاہے،جب کسی سوسائٹی میں بے ایمانی، جھوٹ بولنے ، دھوکا دینے، اور وعدہ پورا نہ کرنے کا رواج ہوجاتا ہے تو اگر اس سوسائٹی میں کوئی ایماندار پیدا ہوتا ہے تو سب اسے بیوقوف کہتے ہیں۔ حالانکہ سوال یہ ہے کہ یہ بے ایمانی بیوقوفی ہے یا ایمانداری بیوقوفی ہے۔

اب ذرا مثال بدل لیجئے، آپ ایک ایسی سوسائٹی میں پہنچ گئے جہاں سب ایماندار ہیں اور وہاں ایک آدمی اس ملک اور سوسائٹی سے آجائے جہاں بے ایمانی کا رواج تھا۔اس نے اپنے حسب عادت بے ایمانی کی تو لوگوں نے کہا کہ تم سے بڑا بیوقوف کوئی نہیں ہے۔

 اس سے معلوم یہ ہوا کہ سوسائٹی میں عقل کسی چیز کا نام نہیں ہے، جو دھارا بہنے لگے وہی عقل ہے، جو دھارے سے الگ ہوجائے وہ بے عقل ہے۔

 سوسائٹی کا معیار تو یہ ہے کہ جوسب کررہے ہیں وہی کرنا عقلمندی ہے اور جو سب کریں اس سے ہٹ کے کیا تو بیوقوفی ہے۔

کچھ چیزیں ایسی ہوتی ہیں جو نسبت سے پیدا ہوتی رہتی ہیں، نتیجہ میں نسبت کے بدلنے سے بدل جاتی ہیں لیکن جو حقائق اور سچائیاں  ہوتی ہیں وہ بدلا نہیں کرتی ہیں۔

 دو اور دو مل کے چار ہی ہوتے ہیں۔ نہ پانچ ہوسکتے ہیں، نہ پونے چار ہوسکتے ہیں۔یعنی ہم کہیں بھی رہیں، دنیا کے کسی حصہ میں رہیں۔ دو اور دو کا چار ہونا ایک مضبوط حقیقت ہے لہٰذا وہ بدل نہیں سکتا ہے۔ مجھے یہی پوچھنا ہے کہ عقل کسی مضبوط حقیقت کا نام ہے یا وہ بھی بلڈنگ کی بدلتی ہوئی منزل کا نام ہے کہ کبھی اونچی ہوگئی کبھی نیچی ہوگئی؟! اگر ایماندار سوسائٹی ہے تو ایمانداری کرنا عقلمندی ہے اور اگر بے ایمان سوسائٹی ہے تو بے ایمانی کرنا عقلمندی ہے۔

 یہ توسوسائٹی کی بات ہوگئی تو سوسائٹی جو کرے وہ حقیقت نہیں ہے، حقیقت وہ ہے جو خود حقیقت ہوتی ہے چاہے سوسائٹی مانے، چاہے نہ مانے۔ ایک ایسی سوسائٹی فرض کر لیجئے جہاں سب حساب لگاتے ہیں دو اور دو پانچ ہوتے ہیں۔ مان لیجئے ایسی سوسائٹی ایک ذرا دیر کے لئے۔ دو اور دو پانچ ہوتے ہیں۔ اب کسی نے کہا دو اور دو چار ہوتے ہیں انہوں نے کہا آپ کو دیکھئے تو مولائے کائنات امیرالمومنین علی ابن ابی طالب علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ہم کو یہی بتایا کہ عقل کے معنی سمجھ لو جو سوسائٹی میں رائج ہوجائے اس کا نام عقل نہیں ہے سوسائٹی جسے بیوقوف کہہ دے وہ بیوقوف نہیں ہے، جسے عقلمند کہہ دے وہ عقلمند نہیں ہے بلکہ اَلعَقلُ مَاعُبِدَ  بِہِ الرَّحمٰنُ عقل وہ ہے جس کے ذریعہ خدا پہچانا جائے۔ عقل وہ ہے جس کے ذریعہ خدا تک پہنچا جائے۔ عقل وہ ہے جس کے ذریعہ سے خدا کے احکام کی تعمیل کی جائے۔ عقل وہ ہے جس سے خدا کے سامنے جھکا جائے۔

اس کی ایک مثال یہ بھی ہے کہ جب  دور جاہلیت میں بت پرستی کا رواج تھا تو اس وقت حضور سرور کائنات جناب محمد مصطفیٰ ﷺ نے یہ پیغام دیا کہ انسانو! ذرا ہوش میں آئو۔ انسانو! ذرا اپنی سمجھ سے کام لو! جس کو تم اپنے ہاتھ سے بناتے ہو یہ تمہارا پیدا کیا ہوا ہے اس نے تم کو پیدا نہیں کیا ہے تو جن بتوں کو تم نے بنایا ہے یہ تمہاری مخلوق ہیں، تمہارے ہاتھ سے بنے ہیں، یہ تمہارے خدا نہیں ہیں۔ تمہارا خدا تو وہ ہے جس نے تم کو پیدا کیا ہے۔

تو بت پرست سوسائٹی نے آپ کو یہی لقب دیا کہ معاذ اللہ ان کے دماغ پر کوئی اثر ہوگیا ہے۔ ان کی عقل زائل ہوگئی ہے۔ یہ مجنوں اور پاگل ہوگئے ہیں۔

 اس سے اس بات کا اندازہ ہو جاتا ہے کہ  لوگ پیغمبراکرم ﷺ کو بھی مجنوں کا لقب دے رہے تھے ، اس لئے کہ وہ سوسائٹی سے الگ بات کہہ رہے ہیں۔ ایسی حالت میں  پیغمبراکرم ﷺ کے پاس دو راستے تھے: ایک یہ کہ سوسائٹی کے راستے پر چلے جاتے عقل کی باتوں کو چھوڑ دیتے۔

آپ کے پاس دوسرا راستہ یہ تھا کہ سوسائٹی سے ٹکرا جائیں۔ اتنا ٹکرا جائیں کہ اپنے کردار، پیغام اور خوبیوں کے ذریعہ  سوسائٹی ہی کو بدل دیں۔

اب ہمارے نبی احمد مجتبیٰ ﷺ نے ہمارے سامنے یہ نقش قدم اور راستہ چھوڑا ہے کہ سوسائٹی کے دھارے پہ بہہ کر ہر بے ایمان ، ہر برائی ، ہر بے عقلی اور ہر خرابی کو اچھا نہ مان لینا، بلکہ سوسائٹی سے ٹکرا کے سوسائٹی میں انقلاب لانے اور بدلنے کی کوشش کرنا اور تم اپنی حقیقتوں پہ باقی رہنا۔

Comment(1)

  1. Reply
    Mesam Naqvi says:

    Subhanallah

Post a comment