3

فکری انحرافات اور امام عسکری علیہ السلام کا رد عمل

فکری انحرافات اور امام عسکری علیہ السلام کا رد عمل

تحریر: حجۃ الاسلام سید منذر الحکیم                                                                                    مولوی محمد رضا’’ مبلغ جامعہ امامیہ

امام حسن عسکری علیہ السلام کی سراپا ہدایت حیات طیبہ کے سلسلہ میں گفتگو کے دوران  ضروری ہے کہ ہم ان بدعتوں اور فکری انحرافات کے بارے میں بھی گفتگو کریں جو آپ کے زمانے میں پیدا ہو گئی تھیں اور آپ نے سامراء میں باطل مذاہب اور فاسد عقائد کا مقابلہ کیسے کیا؟! مذاہب اور فکری انحرافات کی مختلف طریقوں سے مقابلہ کر کے اپنے جد امجد رسول اعظم ﷺکی اس حدیث شریف پر عمل کیا ہے جس میں آنحضرت نے ارشاد فرمایا ہے:

اذا رایتم اہل الریب البدع من بعدی فاظھروا البرائۃ منھم واکثروا من سبہم والقول فیہم والوقیعۃ وباہتوہم کیلا یطمعوا فی الفساد فی الاسلام

میرے بعد جب تم اہل بدعت اور اہل شک افراد کو دیکھو تو ان سے اپنے قول وفعل کے ذریعہ اظہار برأت کرو اور ان سے ایسے بات کرو کہ وہ سرگردان ہوکر خاموش ہو جائیں تاکہ وہ اسلام میں کسی طریقہ کا فساد نہ کر سکیں۔

امام عسکری علیہ السلام کے اسی کے مقابلے کے چند نمونے بیان کئے جارہے ہیں :

فرقۂ صوفیہ سے مقابلہ

امام حسن عسکری علیہ السلام جن بدعتی فرقوں سے سخت بیزار تھے ان میںسے ایک فرقہ صوفیہ بھی تھا امام ؈ کی پوری کوشش یہ تھی کہ لوگوں کو اس فرقہ سے دور رکھا جائے اس لئے کہ یہ لوگ تشنۂ اسلام مسلمانوں کو دھوکا دیکر گمراہ کرنا چاہتے تھے اوراس فرقے کی ابتدا ابوہاشم کوفی نے دوسری ہجری میں کی تھی فرقۂ صوفیہ کے بارے میں امام علی نقی علیہ السلام فرماتے ہیں :

انھم خلفاءالشیاطین ومخربو ا قواعد الدین یتزھدون لراحۃ الاجسام ویتجھدون لتقیید الانام اورادھم الرقص والتصدیۃ واذکارھم الترنم والتغنیۃ،،

یہ لوگ شیطان کے جانشین ہیں اور ستون دین کو خراب کرنے والے ہیں اور دنیا میں اپنی عیش وعشرت کے لئے لباس زہد پہنتے ہیں اور عوام کو اپنی طرف مائل کرنے کی ہمیشہ کوشش کرتے رہتے ہیں ان کا ورد رقاصی کرنا تالی بجانا ہے اور روش ذکر ترنم اور غنا ہے۔

ذرائع البیان فی عوارض اللسان ج۲ص۳۷

اور فکرتصوف اور اس زمانے کی باطل فکروں کو ختم کرنے کے لئے ائمہ علیہم السلام نےقیام کیا ۔ائمہ ؑ نے اس گروہ تصوف پر طرح طرح سے حملے کئے ہیں جیسا کہ سفیۃ البحار میں بزنطی سے نقل کیا گیا ہے کہ امام صادق ؑعلیہ السلام سےایک آدمی نے عرض کیا :اس زمانے میںایک قوم وجود میںآئی ہے کہ جس کو صوفیہ کہا جاتا ہے آپ ان کے بارے میں کیا کہتے ہیں تو امام علیہ السلام نے فرمایا:

انھم اعدائنا فمن مال الیھم فھو منھم ویحشر معھم

سفینۃ البحار ج۲ ص۵۷

وہ ہمارے دشمن ہیں۔ جو ان کی طرف مائل ہوگا وہ ان میں سے ہوگا اور ان کو انھیںکے ساتھ محشور کیا جائے گا ۔

محدث قمی ؒ نے سفینۃ البحار میں علی بن بابویہ قمی اور انھوں نے سعد بن عبداللہ ،محمد بن عبد الجبار اور انھوںنے ابو محمد حسن عسکری؈ سے نقل کیا ہے کہ آپ نے فرمایا :امام جعفر صادق علیہ السلام سے ابو ہاشم کوفی کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ اس کا عقیدہ فاسد تھا اس نے ایک مذہب کی بنیادڈالی ہے جس کا نام تصوف ہے۔جس کو اس نے اپنے فاسد عقیدہ سے بچنے کا راستہ بنایا ہے۔

سفینہ البحار ج۲ ص۵۷

اردبیلی نے امام حسن عسکری علیہ السلام سے نقل کیا ہے کہ آپ نے ابو ہاشم جعفری سے فرمایا :لوگو ں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ ان کے چہرے ہنستے ہوئے نظر آئیں گے لیکن دل کالے اور سیاہ ہوں گے ۔سنت ان کے درمیان بدعت کا درجہ رکھے گی اور بدعت سنت کی جگہ لے لے گی ۔مومن کو بے عزت سمجھا جائے گا اور فاسق کو عزت دار سمجھا جائے گا۔ان کے حکام جاہل وظالم ہوں گے اور ان کے علماء باب ظلم پر دستک دیتے رہیں گے۔ امیر غریبوں کے مال کو چوری کریں گے (یعنی خمس وزکوٰ ۃ  ادا نہیں کریں گے )۔بچے اپنے بڑوں کے آگے چلیں گے اور ہر جاہل ان کے نزدیک عالم ہوگا ۔حوالہ دینے والا فقیر کہلائے گا مخلص اور مرتاب میں کوئی تمیز نہیں ہو سکے گی۔ بھیڑ اور بھیڑیئے میں تمیز نہیں ہو پائے گی۔ علماء روئے زمین پر اللہ کی بد ترین مخلوق ہو جائیں گے کیوں کہ وہ لوگ فلسفہ اور تصوف کی طرف مائل ہوں گے ۔یہ لوگ اہل انحراف اور تحریف پسند ہوں گے ۔ہمارے دشمنوں کی محبت میں مبالغہ کریں گےاور ہمارے شیعوں اور چاہنے والوں کو گمراہ کریں گے ۔اگر کوئی منصب پالیں گے تو رشوت سے سیر نہیں ہوں گے اور اگر انہیں چھوڑ دیا گیا تو اللہ کی عبادت دوسروں کو دکھانے کیلئے کرنے لگیں گے۔یہ لوگ مومنین کے راستوں کے ڈاکو اور ملحدین کی طرف دعوت دینے والے ہوں گے ۔پس جو بھی ان کے زمانے کو درک کرے اس پر ضروری ہے کہ اپنے ایمان اور دین کو ان سے محفوظ رکھے اور بچائے رکھے۔

پھر امام علیہ السلام نے ابو ہاشم سے فرمایا :یہ بات مجھ سے میرے آباء واجداد نے بتائی ہے۔ یہ ہمارے رازوں میں سے ایک راز ہے اس کو صرف انھیں لوگوں سے بیان کرنا جواس راز کے اہل ہیں اور بقیہ لوگوں سے چھپائے رکھنا ۔

فرقۂ واقفیہ

یہ بھی وہ گروہ ہے جس نے حق سے انحراف کیا ۔یہ وہ لوگ ہیں کہ جو امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی امامت پر ٹھہر گئےاور انھوں نے امام علی رضا علیہ السلام کی امامت کو نہیں مانا اور اس فرقہ کے بانی امام صادق و امام کاظم علیہما السلام کے اصحاب ہیں۔ ان میں سے زیاد بن مروان اور علی بن ابی حمزہ اور عثمان بن عیسیٰ ہیں۔ان لوگوں نے امامت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام پرتوقف کیا اور زیاد بن مروان کے پاس امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کے سات ہزاردینار تھے اور دوسروں کےپاس بھی امام علیہ السلام کے مال تھے۔

حدیقۃ الشیعہ ص۵۹۲

اسی لئے شیخ طوسی ؒ نے کتاب الغیبہ میں ابن یزید سے نقل کیا ہے کہ جب امام کاظم علیہ السلام کی شہادت ہوگئی تو اس وقت زیاد بن مروان کے پاس سات ہزار دینار تھے اور عثمان بن عیسیٰ کے پاس تیس ہزاردینار تھے اور مصر میں پانچ گھر اور کئی کنیزیں تھیں۔ جب امام رضا علیہ السلام نےمال کی واپسی کا ان سے مطالبہ کیا اور فرمایا کہ جو مال ،گھر اور کنیزیں ہمارے والد کی تمہارے پاس ہیں وہ میرے حوالے کردو اس لئے کہ میں اپنے والد بزرگوارکا قائم مقام ہوں۔ تو ان تینوں نے امام علی رضا علیہ السلام کو خط میں لکھا کہ آپ کے والد بزرگوار مرے نہیں ہیں اورجو ان کے مرنے کا عقیدہ رکھےوہ باطل پر ہے اور انھوں نے اموال کو آپ کے حوالے کرنے کا حکم نہیں دیا ہے اور جہا ں تک کنیز کی بات ہے تو سب کو آزادکر دیا ہےاور انھوں نےشادی بھی کرلی ہے۔

الغیبۃ ص۴۳

وہ توقیعات مبارک کہ جو اما م عسکری علیہ السلام کی طرف سے صرف اس بارے میں آئی ہیں کہ آپ نے گروہ واقفیہ سے برأت اختیار کرنے کا حکم دیا ہے جس کو علامہ مجلسی ؒ نے احمد بن مطہر سے نقل کیا ہے :

اہل حیل میں سے ایک شخص نے امام حسن عسکری علیہ السلام کو خط لکھا اور واقفیہ کے بارے میں سوال کیا کہ کیا ہم ان سے محبت کریں یا پھر برأت اختیار کریں ؟ تو امام علیہ السلام نے فرمایا :

کیا تم اپنے چچا پر رحم کروگےجبکہ اللہ تمہارے چچا پر رحم نہ کرے؟! تم بھی ان سے برأت اختیار کرو اور میں بھی برأت طلب کرتا ہوں۔ان سے محبت نہ کرنا اور نہ ہی ان کی خوشی کےلئے کوئی کام کرنا۔ان کے جنازہ میں نہ جانا اور ان میں سے اگر کوئی مر جائے تو کبھی بھی ان پر نماز نہ پڑھنا۔ سب برابر ہیں چاہے امام کا انکار کریں یا امام کا اضافہ کر دیں ۔

 پھرامامؑ علیہ السلام نے فرمایا:

ہمارے آخر کا انکار کرنے والا پہلے کے انکار کرنے وا لا ہے اور ہم میں اضافہ کرنے والا ہم میں کمی کرنے والے کی طرح ہے ۔

جیسا کہ سوال کرنے والا یہ نہیںجانتا تھا کہ اس کے چچا واقفیہ گروہ سے تعلق رکھتے ہیں تو امام علیہ السلام نے اس سائل کو بتایا اور لوگو ں نے اس فرقہ کو ممطورہ کے لقب سے ملقب کیا جیسا کہ ابراہیم بن عتیہ کے سوال میں ہے۔ جب اس نے امام حسن عسکری علیہ السلام سے فرقۂ واقفیہ کے بارے میں سوال کیا ۔

علامہ مجلسی ؒ نے براثی سے اور انھوں نے ابراہیم بن عقبہ سے روایت ثربانی ہے کہ آپ کو ابراہیم بن عقبہ نے خط لکھا اور عرض کیا: مولا! میں آپ پر فدا ہو جاؤں کیا آپ اس گروہ ممطورہ کو جانتے ہیں کیا ہم اپنی نماز میں ان پر بددعا کر سکتے ہیں ؟تو امام علیہ السلام نے فرمایا:ہاں تم اپنی نماز میں اس گروہ اور فرقۂ واقفیہ پر لعنت کر سکتے ہو۔

البحار، ج ۵۰ ص۲۶۷

فرقہ ثنویۃ

           امام حسن عسکری علیہ السلام کے زمانے میں انحرافی فرقوں میں سے ایک فرقہ فرقہ ثنویۃہے جس کے بارے میں شہرستانی نے ملل ونحل میں تحریر کیا ہے:

یہ گروہ دو ازلی کا قائل ہے اور یہ

لوگ گمان کرتے ہیں کہ نور اور ظلمت ازلی اور قدیم ہیں برخلاف مجوسیوں کے جو کہتے ہیں کہ ظلمت حادث ہے اور انھوں نے اس کی دلیل بھی اس کے مقام پرذکر کی ہے اور ثنویین کہتے ہیں کہ یہ دونوں قِدم کے اعتبار سے برابر ہیں۔

ملل ونحل ،ج۱،ص۲۴۴

صاحب مجع البحرین نےثنویۃ کے بارےاس طرح تحریر کیا ہے :

 ثنویۃ ـ:جو لوگ قدیم کے ساتھ دوسرے قدیم کو بھی ثابت کرتے ہیں اور کچھ لوگوں نے کہا کہ یہ نظریہ مجوسیوں کا ہے۔اس کے علاوہ ثنوی گروہ یہ بھی عقیدہ رکھتا ہے کہ دنیا میں دو مبدأ ہیں ایک مبدأ خیر ایک مبدأ شر وہ در اصل نوراور ظلمت ہے اور یہ لوگ نبوت ابراہیم علیہ السلام کے بھی قائل ہیں اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہر مخلوق مخلوق ِہے خلق اوّل کے لئے اوراس قول کے بطلان کے لئے امام علیہ السلام کا یہ قول کافی ہے کہ جس میں آپ نے اللہ کی توصیف کرتے ہوئے ارشادفرمایا ہے:

اللہ کسی چیز سے وجود میں نہیں آیا ہے اور نہ ہی اس نے کسی چیز کی مدد سے کوئی چیز خلق کیا ہے۔

اللہ ثنوی پر رحم نہ کرے

شیخ حرعاملیؒ نے کشف الغمہ میں اور انھوں نے سہل بلخی سے نقل کیا ہے :ایک شخص نے امام علیہ السلام سے اپنے والدین کے لئے دعا کرنے کی درخواست کی تھی جبکہ اس کی ماں مومنہ اور باپ ثنوی تھا تو امام علیہ السلام نےصرف اس کی ماں کے لئے اس طرح دعا کی :

رحم اللہ والدتک

اللہ تمہاری والدہ پر رحم کرے۔

اثبات الھداۃ ج۳۔ص۴۲۷

فرقۂ مفوّضہ

مفوّضہ وہ فرقہ ہے جس کا عقیدہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو خلق کرنے کے بعد دنیا کی خلقت کا کام آپ کے حوالے کردیا اورآپ نے پور ی دنیا کو خلق فرمایااور بعض لوگوں نے کہا ہے کہ امام علی علیہ السلام کو خلق دنیا کاکام سونپ دیا تھا۔

 مجمع البحرین ص۳۳۲

شیخ صدوق علیہ الرحمہ نے کتاب الاعتقادات میں تحریر فرمایا ہے :غلاۃ اور مفوضہ کے بارے میں ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ وہ سب کے سب اللہ کا انکارکرنے والے ہیں اوریہ لوگ یہودونصاریٰ ،مجوس،مجبرہ، خوارج اورتمام اہل بدعت و شرک سے بدتر ہیں ۔

شرح باب حادی عشر ص۹۹

علامہ مجلسی علیہ الرحمۃ نے ادریس بن زیاد کفر توثائی سے نقل فرمایا ہے:وہ کہتا ہے کہ میں مفوضہ کے بارے میں بہت بڑی بڑی باتیں کرتاتھا پھر ایک دن میں شہر عسکر گیا تاکہ امام حسن عسکری علیہ السلام سے ملاقات کروں جبکہ میں صعوبات سفر کی وجہ سے تھکا ہوا تھا اسی لئے میں حمام کی دکان پر گیا اور وہاں جا کر سو گیا اس کے بعد خود امام علیہ السلام نے مجھے بیدار کیا جیسے ہی میں بیدار ہوا اور امام کےرخ انور کی زیارت کی میں آپ کے ہاتھوں کو چومنے لگا اور یہ میری امام علیہ السلام سے پہلی ملاقات تھی آپ نے فرمایا:

بل عباد مکرمون لایسبقونہ بالقول وھم بامرہ یعملون،

میں نے عرض کیا: مولا میں اسی سے متعلق آپ سے پوچھنے آیا تھا اورمجھے جواب مل گیا ۔

بحارالانوار ج۵۰ص۲۸۳

راوندی نے ابونعیم محمد بن احمد انصاری سے نقل کیا ہے کہ کامل بن ابراہیم ایک مرتبہ امام حسن عسکری علیہ السلام کی خدمت میں آئے اور عرض کیا: مولا آپ نے جو یہ حدیث فرمائی ہے کہ

لایدخل الجنۃ الا من عرف معرفتی ۔

جس کو ہماری معرفت حاصل ہوگی وہی جنت میں داخل ہوگا،،وہ افراد کون ہیں جو جنت میں داخل ہوں گے؟ امام علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ جنتی وہ گروہ ہے جس کو حقیہ کہا جاتا ہے، میں نے سوال کیا مولا وہ حقیہ گروہ کون سا ہے ؟امام علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ اس گروہ سے مراد وہ افراد ہیں جو علی ابن ابی طالب علیہما السلام سے محبت کرتے ہیں اور جو لوگ ان کے حق کی حفاظت کی قسم کھاتے ہیں اور بھلا تم کیا جانو کہ ان کا حق اور ان کی فضیلت کیا ہے یعنی وہ افراد جو اللہ اور اس کے رسول اور ائمہ علیہم السلام کے حقوق کی اجمالی معرفت رکھتا ہو۔

امام علیہ السلام نے مجھ سے فرمایا: تم فرقہ مفوضہ کے بارے میں مجھ سے پوچھنے آئے تھے تو سنو: یہ لوگ سب کے سب جھوٹے ہیں اور صرف ہم وہ ہیں جو اللہ کی باتوں کو اور اس کی مشیت کو غور سے سنتے ہیں اور اللہ جو چاہتا ہے وہی ہم بھی چاہتے ہیں جیسا کہ قرآن خود گواہی دے رہا ہےـ:

وما تشاءون الا ان یشاء اللہ۔

سورہ انسان ۳۰

پھر امام علیہ السلام نے اس سے فرمایا: کھڑے ہو جائو اور یہاں سے چلے جائو اس لئے کہ میں نے تمھارے سوال کا جواب دے دیا۔

 الخرائج والجرائح،ج۱،ص۴۵۸

 اسحاق کندی کی گمراہی

امام علیہ السلام کے زمانے میں فکری انحرافاتمیں سے یہ بھی ایک انحراف تھا کہ اسحاق کندی نے تناقضات القرآن لکھنا شروع کی اور قرآن مجید کے بیانات کو جمع کرکے یہ کہنا شروع کردیا کہ قرآن کے بیانات میں تضاد پایا جاتا ہے کہ وہ ایک مقام پر ایک بیان دیتا ہے اور دوسرے مقام پر کچھ اور ہی بیان دیتا ہےجبکہ یہ بات شان تنزیل کے بالکل برخلاف ہے۔ امام حسن عسکری علیہ السلام نے اسحاق کے ایک شاگرد سے فرمایا کہ تم اپنے استاد کواس حرکت سے منع کیوں نہیں کرتے ہو؟اس نے معذرت کا اظہار کیا تو آپ نے فرمایا اچھا تو اس سے کم سے کم اتنا تو سوال کرلو کہ یہ تضاد اور تناقض تمھارے سمجھے ہوئے معانی میں سے ہے یا مر ادلٰہی میں ہے؟اگر مراد الٰہی میں ہے تو مراد الٰہی کے سمجھنے کا ذریعہ کیا تھا اور اگر تمہاری فہم میں ہے تو صاحب کلام کسی کی فہم کا ذمہ دار نہیں ہوتا ہے۔

شاگرد نے ایک دن موقع پاکر اسحاق سےیہ سوال کردیا اور وہ مات و مبہوت ہو کر رہ گیا ۔اس نے صرف یہ سوال کیا کہ یہ بات تمھیں کس نے بتائی ہے؟ اس نے کہا: یہ میرے ذہن کی پیداوار ہے ۔اسحٰق نے کہا جو بات تمہارے استاد کے ذہن میں نہ آئی وہ تمہارے ذہن میں کیسے آگئی ؟صحیح صحیح مدرک کا پتہ بتائو۔ اس نے کہا کہ یہ بات مجھے امام حسن عسکری علیہ السلام نے بتائی ہے تو اسحٰق نے بے ساختہ کہا کہ:اَلآنَ جِئتَ بِہٖ،،اب تم نے صحیح بات بیان کی ہے اس لئے کہ اس قسم کی گفتگو اس گھرانے کے علاوہ کوئی دوسرانہیں کر سکتا اور یہ کہہ کر اپنے سارے نوشتہ کو نذر آتش کر دیا۔

مناقب ابن شہر آشوب،بحار الانوار

راہب کی مٹھی کھل گئی

یہ واقعہ بھی عصر امام علیہ السلام کے فکری انحرافاتمیں سے ایک ہے کہ جب ایک مرتبہ آپ کے دور میں قحط پڑا اور مسلمان بےحد پریشان تھے اور سب نے نماز استسقاء پڑھی اور دعائیں بھی کیں لیکن کوئی فائدہ نہ ہوا۔ یہاں تک کہ ایک عیسائی راہب میدان میں آیا اور اس نے دعا شروع کی دعا کے لئے ہاتھ اٹھا نا تھا کہ بارش شروع ہو گئی اور سارے مسلمان حیران رہ گئے اور بہت سے ضعیف الایمان کا ایمان ڈگمگانے لگا کہ حق اس راہب کے ساتھ ہے،دوسرے دن پھر یہی ہوا لہٰذا لوگوں کا یقین راہب پر اور بڑھ گیا یہاں تک کی اس انحراف فکری اور گمراہی کے بارے امام علیہ السلام کو خبر دی گئی تو آپ نے فرمایا کہ جب سب میدان میں جمع ہو جائیں تو مجھے بلا لینا ۔چنانچہ ایسا ہی ہوا اور جیسے ہی راہب نے دعا کے لئے اپنے ہاتھوں کو اٹھایا امام علیہ السلام نے اس کی انگلیوں کے درمیان دبی ہوئی ہڈی کو نکال لیا۔ راہب کی مٹھی کا کھلنا اور ہڈی کا نکلنا تھا کہ آئے ہوئے بادل واپس چلے گئے۔ مجمع حیرت زدہ رہ گیا کہ آخر یہ کیا ہوا اور راہب بھی شرمندہ بھی ہوگیا ۔آپ نے فرمایا کہ یہ باران رحمت راہب کی دعا کا اثر نہیں بلکہ اس کے پاس ایک نبی خدا کی ہڈی تھی جس کی کرامت یہ ہے کہ جب وہ زیر آسمان آتی ہے تو رحمت الٰہی کو جوش آجاتا ہے ۔اس کے بعد اگر راہب زندگی بھر دعا کرے تو اس کی دعا سے بارش نہیں ہوگی۔ چنانچہ امام علیہ السلام  نے دو رکعت نماز پڑھ کر بارگاہ احدیت میں دعا فرمائی اور موسلادھار بارش ہوئی جس کے ذریعہ ملت اسلامیہ کو حضرت کے کمال علم کا بھی اندازہ ہو گیا اور کمال کرامت کا بھی ۔صواعق محرقہ

ان تمام انحرافات فکری کو دیکھ کر یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ امام حسن عسکری علیہ السلام نے کیسے کیسے فکری انحرافات اور بدعتوں سے مقابلہ کیا اور انھیں اور شکست دے کر دین اسلام کی حفاظت کی ہے ۔

تنظیم المکاتب سے مدد لیجئے

تنظیم المکاتب کی مدد کیجئے

Comments(3)

  1. Reply
    syed Hasan haider rizvi says:

    ماشاءاللہ اللہ سلامت رکھے اور ترقی دے

    • Reply
      Shabana Zaidi says:

      Mashallah . Allah aapki taufeeqat mein izafa kare. Ameen

  2. Reply
    Mohammad aqeel says:

    Masha Allah khuda qobool kare

Post a comment