7

انوار عسکری علیہ السلام /بمناسبت ۱۰ربیع الثانی /ولادت امام حسن عسکری علیہ السلام

 انوارِعسکری علیہ السلام

خداوند عالم نے ائمہ معصومین علیہم السلام کو سراپا ہدایت اور پیکر رہنمائی بنایا ہے ، ان کے ہر حرکات و سکنات، کردار ، رفتار و گفتار کو ہماری ہدایت کا ذریعہ اور زندگی کی تاریک وادیوں کو نورانی بنانے کے لئے نور قرارد یا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم زیارت جامعہ کبیرہ میں ان حضرات کو مخاطب قرار دے کر اس طرح عرض کرتے ہیں کہ : کَلامُکُم نُورٌ وَ اَمرُکُم رُشدٌ وَ وَصِیَّتُکُمُ التَّقوَیٰ۔۔۔

آپ حضرات کا کلام نور ہے اور امر ہدایت ہے اور وصیت تقویٰ و پرہیزگاری ہے۔

اسی سلسلہ انوار کی گیارہوں کڑی امام حسن عسکری علیہ السلام کی ذات والا صفات ہے ، آپ کی ولادت باسعادت ۱۰؍ ربیع الثانی کو مدینہ منورہ میں ہوئی۔ آپ کے کلام نور اور اقوال زریں میں سے چالیس احادیث شریف کو انوارِ عسکری ؑکے عنوان سے قارئین کی خدمت میں اس امید کے ساتھ پیش کیا جارہا ہے کہ ہم سب ان پر عمل کر کے ایک کامیاب زندگی بسر کرسکیں۔

 ایک صلوات دس نیکی

خدا کواور موت کو زیادہ سے زیادہ یاد کرو اور قرآن کی زیادہ تلاوت کرو اور نبی  اکرم ﷺپر زیادہ سے زیادہ صلوات بھیجو اس لئے کہ رسول خدا ﷺ پر درود و صلوات بھیجنا دس نیکی شمار ہوتا ہے۔

(بحار الانوار،ج۷۸،ص۳۷۲،ح۱۲)

 زمانۂ غیبت ، زمانۂ امتحان

حضرت مہدی علیہ السلام کی ایک طولانی غیبت ہو گی کہ اس زمانہ میں جاہل حیران و سرگرداں ہوں گے اور اہل باطل اس دور میں ہلاک ہوں گے ، ان کے ظہور کا وقت معین کرنے والے جھوٹے ہوں گے ، اس غیبت کے بعد وہ ظہور کریں گے ۔ گویا میں دیکھ رہا ہوں کہ نجف ِ کوفہ میں سفید پرچم ان کے سر کے اوپر لہرا رہے ہیں۔

 (کمال الدین،ص۴۰۹،ح۹)

یہی امام ہیں

عمرو اہوازی کہتے ہیں کہ امام حسن عسکری علیہ السلام نے مجھے اپنے فرزند کا دیدار کرایا اور فرمایا:

یہ فرزند میرے بعد تمہارا امام ہے۔

(کافی،ج۱،ص۳۲۸،ح۳)

 علم امامت سے فیصلہ

جب امام مہدی علیہ السلام قیام کریں گے تو اپنے علم کی بنیاد پر لوگوں کے درمیان فیصلہ کریں گے جس طرح حضرت داؤد علیہ السلام فیصلہ کرتے تھے ، وہ لوگوں سے گواہ طلب نہیں کریں گے۔

(کافی،ج۱،ص۵۰۹،ح۱۳)

منجی عالم بشریت

احمد بن اسحاق کہتے ہیں کہ میں نے امام حسن عسکری علیہ السلام کو یہ فرماتے ہوئے سنا:

ساری تعریفیں اس خدا کی جو مجھے اس دنیا سے نہیں لے گیا یہاں تک کہ میرے جانشین کو مجھے دکھادیا ، وہ خلقت اور اخلاق میں رسول خدا  ﷺ سے سب سے زیادہ مشابہ ہے۔خدا غیبت میں اس کی حفاظت فرمائے گا، اس کے بعد اسے ظاہر کرے گا تاکہ وہ زمین کو عدل و انصاف سے اس طرح بھر دے جس طرح وہ ظلم و جور سے بھری ہو گی۔

(کمال الدین، ص۴۰۸،ح۷)

  تعلیمات محمدی

میں تمہیں تقویٰ الٰہی ، دین میں ورع و پرہیز گاری، خدا کے لئے جد و جہد، سچ بولنے، جس نے تمہیں امانتدار بنایا ہے چاہے نیک ہو یا بد اس کی امانت کو واپس کرنے، طولانی سجدے کرنے اور پڑوسیوں کے ساتھ حسن سلوک کی وصیت کرتا ہوں۔ حضرت محمد مصطفیٰﷺ یہی تعلیمات لے کر آئے تھے۔

(بحار،ج۷۸،ص۳۷۲،ح۱۲)

 جیسی کرنی ویسی بھرنی

تمہاری عمریں کم ہورہی ہیں، تمہارے دن گنتی کے ہیں اور موت اچانک آئے گی۔ جو نیکی کی کھیتی کرے گا وہ خوشی کی فصل کاٹے گا اور جو برائی کی کھیتی کرے گا وہ ندامت و پشیمانی کی فصل کاٹے گا۔ جو بوئے گا وہ کاٹے گا۔نہ کاہل اپنے حصہ سے پیچھے رہے گا اور نہ ہی لالچی اپنے حصہ سے زیادہ پائے گا۔ جس کو خیر پہونچے گا خدا کی جانب شے ہوگا اور جو بھی شر سے محفوظ رہے گا تو خدا نے اس کی حفاظت کی ہے۔

(تحف العقول،ص۴۸۹)

شرک خفی

لوگوں میں شرک اندھیری رات میں کالے فرش پر چیونٹی کے نقش قدم سے بھی زیادہ پوشیدہ ہوتا ہے۔

(تحف العقول،ص۴۸۷)

 ناقابل معانی گناہ

ناقابل معافی گناہوں میں سے ایک گناہ یہ ہے کہ انسان یہ کہے کہ اے کاش! اس گناہ کے علاوہ دوسرے گناہ پر میری باز پرس نہ ہوتی!یعنی گنہگار گناہ کو کوچک اور ہلکا سمجھے۔

(تحف العقول،ص۴۸۷)

 کتنی بری بات ہے۔۔۔

مومن کے لئے کتنی بری بات ہے کہ اس کے اندر کوئی ایسی رغبت اور دلبستگی ہو جو اسے ذلیل و رسوا کردے۔

(تحف العقول،ص۴۸۷)

ساری محبتوں۔۔۔

اللہ سے ڈرو ، زینت کا سبب بنو ، ننگ و بدنامی کا نہیں، ساری محبتوں کو ہماری طرف کھینچ کر لاؤ اور ساری برائیوں کو ہم سے دور رکھو۔

(میزان الحکمہ،ج۵،ص۲۴۱،ح۹۹۷۶)

صاحبان ایمان کی علامتیں

صاحبان ایمان کی پانچ علامتیں ہیں: ۵۱ رکعت نماز پڑھنا، زیارت اربعین، داہنے ہاتھ میں انگوٹھی پہننا، سجدہ میں خاک پر پیشانی رکھنا اور نماز میں بلند آواز سے بسم اللہ پڑھنا۔

(مصباح المتہجد،ص۷۸۸)

علی علیہ السلام کے شیعہ

امام علی رضا علیہ السلام کی خدمت میں ایک جماعت آئی ، اس نے اذن دخول طلب کیا اور عرض کیا: ہم علی علیہ السلام کے شیعوں میں سے ہیں۔

امام علی رضا علیہ السلام نے کئی دن تک انھیں اپنے پاس آنے کی اجازت نہیں دی ، آخرکار ان لوگوں نے کئی دن بعد اجازت حاصل کرلی اور آپ کے حضور حاضر  ہوئے تو امام علیہ السلام نے ان سے فرمایا:

تم پر وائے ہو! امیرالمومنین علی علیہ السلام کے شیعہ تو امام حسن ، امام حسین علیہما السلام ، سلمان، ابوذر، مقداد، عمار یاسر اور محمد بن ابی بکر ہیں، جنھوں نے امام علی علیہ السلام کے کسی حکم کی نافرمانی اورمخالفت نہیں کی۔

(سفینۃ البحار،ج۴،ص۵۵۱)

 اورع، اعبد ، ازہد

پارسا و پرہیز گار وہ شخص ہے جو حلال و حرام میں شک و شبہہ کے مقامات پر رک جائے ۔ سب سے بڑا عابد وہ ہے جو واجبات کی ادائیگی میں ثابت قدم ہو۔ سب سے بڑا زاہد وہ ہے جو حرام کو ترک کردے اور سب سے زیادہ جد و جہد کرنے والا وہ ہے جو گناہوں کو چھوڑ دے۔     (بحار،ج۷۸،ص۳۷۳،ح۱۸)

سخاوت و احتیاط کی حد

جان لوکہ سخاوت کی بھی ایک حد ہے اگر اس سے گزرجائے تو اسراف و فضول خرچی ہے اور احتیاط و دور اندیشی کی بھی ایک حد ہے اگر اس سے بڑھ جائے تو جسارت و بے باکی ہے۔

(اعلام الدین،ص۳۱۳)

میانہ روی اور فضول خرچی

میانہ روی اختیار کرو اور فضول خرچی سے دور رہو۔      (احقاق الحق،ج۱۲،ص۴۶۷)

احترام یا زحمت و مشقت

 کسی شخص کا اس طرح احترام و اکرام نہ کروکہ وہ زحمت و مشقت میں پڑ جائے۔

(بحار،ج۷۸،ص۳۷۴،ح۲۴)

ابرار کی سے محبت و دشمنی

نیک لوگوں کی نیک لوگوں سے محبت نیک لوگوں کے لئے ثواب ہے۔ فاجروں کا نیک لوگوں سے محبت کرنا نیک لوگوں کے لئے فضیلت ہے ، فاجروں کا نیک لوگوں سے دشمنی کرنا نیک لوگوں کے لئے زینت ہے اور نیک لوگوں کا فاجروں سے دشمنی کرنا فاجروں کے لئے زلت و رسوائی ہے۔

(بحار،ج۷۸،ص۳۷۲،ح۸)

 برے پڑوسی کی صفت

کمر شکن مصیبتوں میں سے ایک وہ پڑوسی ہے جو خوبی دیکھتا ہے تو اس پر پردہ ڈالتا ہے اور اگر بدی دیکھتا ہے تو اسے پھیلاتا ہے۔

 (تحف العقول، ص۴۸۷)

بہترین بھائی کی نشانی

تمہارا سب سے بہترین بھائی وہ ہے جو تمہاری خطاؤں کو بھلادے اور اپنے اوپر تمہاری نیکیوں کو یاد رکھے۔

(اعلام الدین، ص۳۱۳)

منافق کی خصلت

 جو شخص دو چہرہ اور دوزبان ہو وہ سب سے برا بندہ ہے، سامنے تو اپنے بھائی کی تعریف کرتا ہے اور پیٹھ پیچھے غیبت کرکے اس کا گوشت کھاتا ہے، اگر کوئی نعمت ملتی ہے تو حسد کرتا ہے اور مصیبت میں گرفتار ہوجاتا ہے تو اس کے ساتھ خیانت کرتاہے۔

 (بحار،ج۷۸،ص۳۷۳،ح۱۱۴)

جھگڑے اور زیادہ مذاق کا نتیجہ

جھگڑا نہ کرو کہ تمہاری عزت و آبرو چلی جائے گی اور زیادہ شوخی و مذاق نہ کرو کہ لوگ تمہارے سلسلہ میں گستاخ ہو جائیں گے۔

 (بحار، ج۷۸، ص۳۷۰،ح۱)

سچا شیعہ علی علیہ السلام

 خدا کے نزدیک سب سے عظیم اور برتر وہ شخص ہے جو اپنے برادران دینی کے حقوق سے زیادہ آگاہ ہو اور ان کی ادائیگی میں زیادہ کوشا ہو۔ جو شخص دنیا میں اپنے برادران دینی کے سامنے تواضع و انکساری کرے گا وہ خدا کے نزدیک صدیقین اور علی بن ابی طالب علیہ السلام کے سچے شیعوں میں شمار ہوگا۔

(بحار،ج۴۱،ص۵۵،ح۵)

جھوٹ کی مثال

 ساری خباثتوں اور برائیوں کوایک گھر میں اکٹھا کردیا گیاہے اور اس کی کنجی جھوٹ کو قرار دیا گیاہے۔ (جامع الاخبار،ص۴۱۸، ح۱۱۶۲)

غصہ

غصہ ہر برائی کی کنجی ہے۔

 (تحف العقول،ص۴۸۸)

 زیادہ دوست زیادہ تعریف

ورع و پرہیزگاری جس کی فطرت کا جزء ، جود و سخا اس کی طبیعت اور حلم و بردباری اس کا دوست ہوگا اس کے دوست زیادہ اور اس کی تعریف فراوان ہوگی اور وہ اپنی تعریف کے ذریعہ اپنے دشمنوں سے انتقام لے گا۔

 (اعلام الدین،ص۳۱۴)

ظاہری اور باطنی جمال

 چہرہ کا حسن ، ظاہری جمال اور عقل کا حسن باطنی جمال ہے۔(بحار،ج۱،س۹۵،ح۲۷)

بچپن کی گستاخی کا انجام

 لڑکپن میں بچہ کی باپ کی شان میں گستاخی بڑکپن میں نافرمانی اور ایذارسانی کی دعوت دیتی ہے۔ (بحار،ج۷۸،ص۳۷۴،ص۲۷)

احمق کا دل اور عقلمند کی زبان

احمق کا دل اس کے منہ میں اور عقلمند کا منہ اس کے دل میں ہوتا ہے۔(یعنی بیوقوف بغیر سوچے سمجھے بول پڑتا ہے اور عقلمند غور و فکرکے بعد بولتا ہے)

(بحار،ج۷۸،ص۳۷۴،ح۲۱)

 متواضع پر خدا کا درود

جو شخص بزم میں اپنی منزلت سے نیچی جگہ پر بیٹھنے پر راضی رہتا ہے خدا اور اس کے فرشتے اس پر مسلسل درود بھیجتے رہتے ہیں یہاں تک وہ اٹھ جائے۔

(تحف العقول،ص۴۸۶)

تواضع کی نشانی

تواضع اور انکساری میں سے یہ بھی ہے کہ تم جس کے پاس سے گزرو اسے سلام کرو اور بزم میں اپنے مقام سے نیچی جگہ پر بیٹھو۔

 (بحار،ج۷۸،ص۳۷۲،ح۹)

روزی اور واجب عمل

 کہیں ایسا نہ ہو کہ جس روزی کی ضمانت لی گئی ہے کہ تم تک پہونچ کر رہے گی وہ تمہیں واجب کام سے روک دے۔

 (تحف العقول، ص۴۸۹)

نعمت کی معرفت اور شکر

 نعمت کو شکر گزار کے علاوہ کوئی نہیں پہچانتا اور پہچاننے والے کے علاوہ کوئی دوسرا نعمت کا شکر ادا نہیں کرتا۔

(میزان الحکمہ،ج۵،ح۹۵۸۶)

زیادہ سے زیادہ غور و فکر

زیادہ سے زیادہ روزہ و نماز ہی عبادت نہیں ہے بلکہ عبادت امر و قدرت خدا کے بارے میں زیادہ سے زیادہ غور وفکر کرنا ہے۔

(بحار ، ج۸۸،ص۳۷۳)

دو عظیم خصلتیں

دو خصلتیں ایسی ہیں کہ ان کے اوپر کوئی دوسری خصلت نہیں ہے: ایک خدا پر ایمان رکھنا ، دوسرے برادران دینی کو فائدہ پہونچانا۔

 (بحار، ۷۸،ص۳۷۴)

بے جا ہنسی

بے جا ہنسنا جہل و نادانی کی علامت ہے۔

(تحف العقول، ص۵۱۷)

سب سے کم آرام میں

کینہ رکھنے والا سب سے کم آرام و آسائش میں رہتا ہے۔

(تحف العقول، ص۵۱۹)

حق کی خاصیت

 کسی عزت دار نے حق کو نہیں چھوڑا مگر یہ کہ ذلیل و خوار ہوا اور کسی پست نے حق کو نہیں اپنایا مگر یہ کہ عزت دار بنا۔

 (تحف العقول، ص۴۸۴)

پوشیدہ اور علنی پند و نصیحت

جس نے پوشیدہ طور پر اپنے برادر دینی کو پند و نصیحت کی اس نے اسے آراستہ کیا اور جس نے دوسروں کے سامنے اس کو پند و نصیحت کی اس نے اسے رسوا کیا۔

(تحف العقول،ص۵۲۰)

بے ادبی

غمزدہ کے سامنے خوشی کا اظہار کرنا بے ادبی ہے۔

(تحف العقول،ص۴۸۹)

تنظیم المکاتب سے مدد لیجئے

تنظیم المکاتب کی مدد کیجئے

Comments(7)

  1. Reply
    Mohd raza says:

    Mashallah Allah tarqqi de

    • Reply
      Imran says:

      Mashallah subhanallah khuda kamiyabi ata kare aur hamre asatez ko hamesha salamt rakhe

  2. Reply
    Anwar haider says:

    Mashaallah

  3. Reply
    Imran says:

    Mashallah subhanallah khuda kamiyabi ata kare aur hamre asatez ko hamesha salamt rakhe

  4. Reply
    syed Hasan haider rizvi says:

    ماشاءاللہ

  5. Reply
    Mejeedi says:

    Jazakallah o khairan

  6. Reply
    Mejeedi says:

    Jazakallah o khairan mashallah

Post a comment