جامعہ امامیہ میں جلسہ سیرت

حوزہ/ مولانا سید تہذیب الحسن استاد جامعہ امامیہ نے بیان کرتے ہوئے کہا کہ امام محمد باقر علیہ السلام واقعہ کربلا کے چشم دید گواہ تھے، آپ نے اس پر آشوب زمانے میں زیارت امام حسین علیہ السلام کو فروغ دیا، لوگوں کو حکم دیتے کہ وہ امام حسین علیہ السلام کی  زیارت کے لئے کربلا جائیں۔ جناب جابر سے روایت ہے کہ جب ہم امام محمد باقر علیہ کے ہمراہ کربلا پہنچے تو آپ نے فرمایا: ائے جابر!یہ  کربلا ہمارے لئے اورہمارے شیعوں کے لئے جنت ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،لکھنو/ حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کی مظلومانہ شہادت کے موقع پر جامعہ امامیہ میں جلسہ سیرت منعقد ہوا۔ مولوی سید مثم رضا موسوی متعلم جامعہ امامیہ نے تلاوت قرآن کریم مع ترجمہ سے جلسہ کا آغاز کیا، مولانا محمد رضا مبلغ جامعہ امامیہ نے صلوات امام محمد باقر علیہ السلام اور ائمہ بقیع علیہم السلام کی زیارت مع ترجمہ تلاوت کی۔

مولانا سید ظفر عباس مبلغ جامعہ امامیہ اور مولانا محمد فہیم رضوی مبلغ جامعہ امامیہ نے بارگاہ امام محمد باقر علیہ السلام میں منظوم نذرانہ عقیدت پیش کیا۔

مولانا سید صادق عابدی مبلغ جامعہ امامیہ نے حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کی انگشتری مبارک کے نقش “العزة لله جميعاً” (تمام عزت اللہ کے لئے ہے۔) کو ذکر کرتے ہوئے بیان کیا کہ عزت دینے والا اللہ ہے، ہشام نے تیراندازی کا مقابلہ رکھ کر امام باقر علیہ السلام کی توہین کرنی چاہی لیکن عزت دینے والا اللہ تھا اور امام کی عزت اور فضیلت دنیا پر مزید آشکار ہوئی۔

مولانا محمد عباس معروفی صاحب مبلغ و استاد جامعہ امامیہ نے حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کی شیعوں کو نصیحت کو بیان کیا جسمیں امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا: ہمارا حقیقی چاہنے والا وہی ہے جو اللہ کی اطاعت و فرمانبرداری کے ساتھ ہماری اطاعت کرے اور اگر کوئی اللہ کا نافرمان ہو تو صرف ہماری محبت اس کو فائدہ نہیں پہنچائے گی۔

مولانا سید علی ہاشم عابدی صاحب استاد جامعہ امامیہ نے امام محمد باقر علیہ السلام کی حدیث “اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے۔ نماز، زکات، حج، روزہ اور ولایت۔ جتنا ولایت کے سلسلہ میں روز غدیر تاکید ہوئی اتنی تاکید کسی اور چیز کی نہیں ہوئی۔” کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ ولایت اہل بیت کے بغیر انسان بندگی کی حقیقت تک نہیں پہنچ سکتا اور نہ ہی خدا سے رابطہ قائم ہو سکتا ہے جیسا کہ امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا: “جو ہم اہلبیت کے وسیلہ سے خدا سے دعا کرے گا وہ کامیاب ہو گا اور جو ہمارے علاوہ کو وسیلہ بنا کر خدا سے دعا کرے گا تو وہ مایوس اور ہلاک ہو گا” یعنی بغیر اہلبیت کے مالک کی بارگاہ میں سنوائی نہیں ہے۔

مولانا سید تہذیب الحسن صاحب استاد جامعہ امامیہ نے حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کی حدیث “مکمل حج ہماری زیارت ہے۔” کو سرنامہ کلام قرار دیتے ہوئے بیان کیا کہ امام محمد باقر علیہ السلام واقعہ کربلا کے چشم دید گواہ تھے، آپ نے اس پر آشوب زمانے میں زیارت امام حسین علیہ السلام کو فروغ دیا، لوگوں کو حکم دیتے کہ وہ امام حسین علیہ السلام کی  زیارت کے لئے کربلا جائیں۔ جناب جابر سے روایت ہے کہ جب ہم امام محمد باقر علیہ کے ہمراہ کربلا پہنچے تو آپ نے فرمایا: ائے جابر!یہ  کربلا ہمارے لئے اورہمارے شیعوں کے لئے جنت ہے۔