At the time of the foundation of Tanzeemul Makatib (1968), there was need of school as well as maktab, but it was impossible for anyone to fulfil all these needs. There is no need to say that the most important need is given preference when there are many needs and fulfilling all the needs is not possible. That is why the movement for Tanzeemul Makatib was launched, with a target of establishing 1000 maktabs. Thanks God, the mission got success. There are 1210 maktabs running today. Today we, even on search, do not find a place in need of a maktab and not having it. Our movement is victim of failure to some extent in cities. It is mainly because of the urban people’s less interest in religious education. They are not worried of their children’s religious education, otherwise maktab can be opened in each and every mohallah as the organization is ready (to open) it all the moment.

The number of maktabs has alhamdu lillah crossed 1000. There is need to change the maktabs into schools-cum-maktab. The movement for setting up school-cum-maktab was started in 1984. In 32 years, we got only partial success because substantial money (millions of rupees) is required for setting up and managing a school. A school can not be started without building, furniture etc. Then it requires heavy expenditure for its maintenance and its running while a maktab can be started in a masjid or in an Imambada. God willing, more co-operation and help we get from the community, the faster will be its progress. Our best endeavor is that not a single boy in whatever corner of country he lives is left illiterate. At present there are three types of schools as follows. This explanation was necessary because the people against the organization have given this negative message to the supporters that there is no progressivism in the nature of Tanzeemul Makatib which is not attentive to the modern education, though it is just a false allegation. The standard of English and Computer Education in our Jameas bears testimony to that our eyes are focused on future and the future’s demand is that every child gets modern education as well as religious education so that he may get success in the world and Hereafter.

1.            The maktabs imparting complete course of contemporary education along with religious one.

There are 14 primary schools, 1 high school and 2 inter colleges which were started as maktabs and with nice management by local management and with the co-operation and supervision by the organization have reached to this stage. In such schools 106 teachers are teaching 1916 students.

2.            The maktabs where partial contemporary curriculum (Math, English & Hindi) is taught along with religious education, so that the boys after completing maktab education may take admission in class VI in to general schools. There are 10 schools of this type, where 1452 students are taught by 52 teachers.

3.            There are some private schools where religious education is imparted under the guidance of organization. There are 07 schools falling under the category where 1151 students are taught by 40 teachers.

ادارئہ تنظیم المکاتب کے زمانۂ قیام (۱۹۶۸؁ء) میں اسکول کی بھی ضرورت تھی اور مکتب کی بھی، لیکن ان ساری ضرورتوں کو پورا کرنا کسی کے لئے ممکن نہ تھا۔ یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ اگر کئی ضرورتیں ہوں اور سب کو پورا کرنا ممکن نہ ہو، تو اہم ترین کو ترجیح  دی جاتی ہے۔ اس لئے بانیٔ تنظیم مولانا سید غلام عسکریؒ نے تنظیم المکاتب کے ذریعہ قیام مکاتب کی تحریک چلائی اور                    ایک ہزار مکاتب کے قیام کو نشانہ بنایا۔ الحمدللہ! اس مشن میں کامیابی حاصل ہوئی اور آج ماشاء اللہ ۱۰۹۶؍ مکاتب جاری ہیں۔ آج ہمیں جستجو کرنے پر بھی وہ جگہ نہیں ملتی جہاں مکتب کھولنےکی ضرورت ہواور مکتب نہ ہو۔ کسی حد تک شہروں میں ہماری تحریک ناکامی کا شکار ہے ۔ جس کا اصل سبب شہری حضرات کی دین سےکم دلچسپی ہے۔وہ ا پنے بچّوں کی دینی تعلیم کےلئے فکرمند نہیں ہیں ۔ ورنہ   محلہ محلہ مکاتب کھل سکتے ہیں اور ادارہ ہر لمحہ آمادہ ہے۔بحمدللہ ! مکتاب کی تعدادایک ہزار سے زائد ہو چکی ہے۔ اب مکاتب کو اسکولوں سے بدلنے کی ضرورت ہے۔ عمارت اور فرنیچر جیسے وسائل کے بغیر اسکول کا آغاز نہیں ہوتا۔ پھر جاری رکھنے کے لئے بھی زیادہ اخراجات ہوتے ہیں۔ اس کے برخلاف مکتب کسی امامباڑہ یا مسجد میں فرش پر شروع ہو جاتا ہے۔ انشاء اللہ! قوم کے             تعاون کی رفتارجتنی تیز ہوگی، یہ شعبہ اتنی ہی رفتار سے کام کرےگا۔ ہمارا مشن یہی ہے کہ قوم کا کوئی ایک بچّہ بھی ، چاہے وہ               ملک کے کسی بھی گوشہ میں ہو، انپڑھ نہ رہنےپائے۔ اس وقت حسب ذیل تین طرح کے اسکول قائم ہیں ۔ یہ وضاحت اس لئے بھی ضروری تھی کہ ادارہ مخالف افراد نے معاونین کو یہ منفی پیغام بھی پہنچایا ہے کہ تنظیم المکاتب کے مزاج میں ترقی پسندی نہیں ہے۔ وہ ماڈرن ایجوکیشن کی طرف متوجہ نہیں ہے۔ جبکہ یہ سراسر بہتان ہے۔ ہمارے جامعہ میں انگریزی اور کمپیوٹروغیرہ کی جس معیار کی تعلیم ہے، وہ اس بات کی گواہ ہے کہ ہماری نگاہیں مستقبل پر ہیں ۔ اور مستقبل کا تقاضا یہ ہےکہ ہر بچّے کو ماڈرن ایجوکیشن بھی ملےاور     دینی تعلیم بھی تاکہ وہ دنیا و آخرت دونوں جگہ کامیابی حاصل کرسکے۔ ادارئہ تنظیم المکاتب کے زمانۂ قیام (۱۹۶۸؁ء) میں اسکول کی بھی ضرورت تھی اور مکتب کی بھی، لیکن ان ساری ضرورتوں کو پورا کرنا کسی کے لئے ممکن نہ تھا۔ یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ اگر کئی ضرورتیں ہوں اور سب کو پورا کرنا ممکن نہ ہو، تو اہم ترین کو ترجیح  دی جاتی ہے۔ اس لئے بانیٔ تنظیم مولانا سید غلام عسکریؒ نے تنظیم المکاتب کے ذریعہ قیام مکاتب کی تحریک چلائی اور                    ایک ہزار مکاتب کے قیام کو نشانہ بنایا۔ الحمدللہ! اس مشن میں کامیابی حاصل ہوئی اور آج ماشاء اللہ ۱۰۹۶؍ مکاتب جاری ہیں۔ آج ہمیں جستجو کرنے پر بھی وہ جگہ نہیں ملتی جہاں مکتب کھولنےکی ضرورت ہواور مکتب نہ ہو۔ کسی حد تک شہروں میں ہماری تحریک ناکامی کا شکار ہے ۔ جس کا اصل سبب شہری حضرات کی دین سےکم دلچسپی ہے۔وہ ا پنے بچّوں کی دینی تعلیم کےلئے فکرمند نہیں ہیں ۔ ورنہ   محلہ محلہ مکاتب کھل سکتے ہیں اور ادارہ ہر لمحہ آمادہ ہے۔بحمدللہ ! مکتاب کی تعدادایک ہزار سے زائد ہو چکی ہے۔ اب مکاتب کو اسکولوں سے بدلنے کی ضرورت ہے۔ عمارت اور فرنیچر جیسے وسائل کے بغیر اسکول کا آغاز نہیں ہوتا۔ پھر جاری رکھنے کے لئے بھی زیادہ اخراجات ہوتے ہیں۔ اس کے برخلاف مکتب کسی امامباڑہ یا مسجد میں فرش پر شروع ہو جاتا ہے۔ انشاء اللہ! قوم کے             تعاون کی رفتارجتنی تیز ہوگی، یہ شعبہ اتنی ہی رفتار سے کام کرےگا۔ ہمارا مشن یہی ہے کہ قوم کا کوئی ایک بچّہ بھی ، چاہے وہ               ملک کے کسی بھی گوشہ میں ہو، انپڑھ نہ رہنےپائے۔ اس وقت حسب ذیل تین طرح کے اسکول قائم ہیں ۔ یہ وضاحت اس لئے بھی ضروری تھی کہ ادارہ مخالف افراد نے معاونین کو یہ منفی پیغام بھی پہنچایا ہے کہ تنظیم المکاتب کے مزاج میں ترقی پسندی نہیں ہے۔ وہ ماڈرن ایجوکیشن کی طرف متوجہ نہیں ہے۔ جبکہ یہ سراسر بہتان ہے۔ ہمارے جامعہ میں انگریزی اور کمپیوٹروغیرہ کی جس معیار کی تعلیم ہے، وہ اس بات کی گواہ ہے کہ ہماری نگاہیں مستقبل پر ہیں ۔ اور مستقبل کا تقاضا یہ ہےکہ ہر بچّے کو ماڈرن ایجوکیشن بھی ملےاور     دینی تعلیم بھی تاکہ وہ دنیا و آخرت دونوں جگہ کامیابی حاصل کرسکے۔ *وہ مکاتب جن میں دینی تعلیم کے ساتھ مروجہ عصری تعلیم کامکمل نصاب رائج ہے، ان میں اس وقت پندرہ پرائمری اسکول، ایک ہائی اسکول اور دو انٹر کالج ہیں جو مکتب سے شروع ہوئے اور مقامی انتظامیہ کے حسن انتظام اورادارہ کے تعاون ونگرانی کے باعث اس مرحلہ تک پہنچے۔ ان اسکولوں میں ۳۷۰۷؍ طلاب کو ۱۶۰؍ ٹیچر تعلیم دے رہے ہیں ۔ *وہ مکاتب جن میں دینی تعلیم کے ساتھ عصری علوم کی جزوی تعلیم (ریاضی، انگریزی، ہندی)دی جاتی ہےتاکہ بچّہ              مکتب سے نکل کر اسکول کے چھٹے درجہ میں داخلہ لے سکے، ایسے اسکولوں کی تعداد ۹؍ ہے جن میں ۲۲؍ معلمین اور ۶۷۱؍ طلاب ہیں۔  *ایسے پرائیویٹ اسکول جن میں ادارہ کے زیر اہتمام دینی تعلیم جاری ہے ، اُن کی تعداد ۱۰؍ ہے اور اُن میں ۷۳۳؍ طلاب اور ۳۰؍ طلاب ہیں ۔