بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

عظم اللہ اجورنا و اجورکم


رسول اکرم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شہادت کے بعد آپ کی اکلوتی یاد گار بیٹی یعنی شریکہ رسالت، محافظہ ولایت ، مادر امامت حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی مظلومیت ،آپ اور آپ کے فرزند حضرت محسنؑکی شہادت تاریخ اسلام کا وہ سیاہ باب ہے کہ جس پر رہتی دنیا تک انسانیت شرمسار اور آدمیت گریہ کناں ہے۔
حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کہ جن کے در پر آیت تظہیر کے نزول کے بعد چھ ماہ تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہر نماز سے پہلے تشریف لا کر فرمایا۔
السلام علیکم یا اھل بیت النبوہ انما یرید اللہ لیذھب عنکم الرجس و طھرھم تطھیرا
اللہ کے نبیؐ جب سفرپر جاتے تو جس سے سب سے آخر میں اور سفر سے واپسی میں جس سے سب سے پہلے ملاقات کرتے وہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا تھیں۔
آیہ تطہیر میں مرکز تعارف اور مباہلہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نبوت کے گواہوں میں تھیں کہ حضورؐ نے فرمایا ۔ فاطمہؑ میرا ٹکڑا ہے جس نے اسے اذیت دی اس نے مجھے اذیت دی اور جس نےمجھے اذیت دی اس نے خدا کو اذیت دی اور خدا کو اذیت دینے والا کافر ہے۔
رسول اللہ ؐ کے بعد آپ کی مظلومیت اور شہادت ظالموں اور ستمگروں کے اصل چہرے کو دنیا پر واضح کرتی ہے اور رہتی دنیا تک مسلمانوں کے لئے لمحہ فکریہ ہے کہ آخر کیوں محبوب کبریاء کی محبوب بیٹی پر وہ ستم پڑے کہ انھوں نےنوحہ و فریاد کی
صبت علیی مصائب لو انھا ۔۔۔۔
اور مسلمان کسی بھی فرقہ سے تعلق رکھتا ہولیکن اس کے لئے یہ جاننا بہرحال ضروری ہے کہ جس نبیؐ پر ایمان لانا اور ان کا کلمہ پڑھنا واجب ہے آخر انکی اکلوٹی بیٹی کو کیوں شہید کیا گیا؟
بای ذنب قتلت
ہم ! شہزادی کونین حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی مظلومانہ شہادت پر آپ کے سوگوار فرزند حضرت امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف ، علمائے اعلام ، مراجع کرام اور جملہ صاحبان ایمان کی خدمت میں تعزیت پیش کرتے ہیں۔